خطبات محمود (جلد 28) — Page 196
سال 1947ء 196 (20 مظلوم کی مدد کرنا ہر شریف انسان کا فرض ہے )فرمودہ 30 مئی 1947ء( خطبات محمود تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : وو پچھلے دنوں بعض دوستوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ پنجاب کے بعض حصوں میں مسلمانوں پر جو سختی ہوئی ہے اور اُن کے گھر اور اُن کی دکانیں جلا دی گئی ہیں ۔ اُن کی امداد کے لئے مسلم لیگ کی طرف سے فی مربع زمین ایک من غلہ چندہ لگایا گیا ہے ۔ آیا وہ مسلم لیگ کی اس تحریک میں حصہ لیں یا نہ لیں؟ چونکہ یہ سوال سارے ہی پنجاب میں اٹھے گا اِس لئے میں اِس خطبہ کے ذریعہ سے اس کا جواب دیتا ہوں ۔ جہاں تک مظلوم کی امداد کا سوال ہے اسلام تمام مذاہب سے زیادہ اس پر زور دیتا ہے کہ خود تکلیف اٹھا کر بھی مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی جائے ۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے مومن وہ ہے جو آپ بھوکا رہ کر دوسرے بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے ۔ 1 حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مختلف جہات سے مسلمان دین اسلام سیکھنے کے لئے اور اسلام کے متعلق گہری واقفیت حاصل کرنے کے لئے آتے تھے۔ چونکہ اُس وقت مہمان خانہ نہ ہوتا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے بعد لوگوں لوگوں : میں اعلان کر کے مہمان تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک مہمان ایسے وقت آیا کہ آسودہ حال لوگوں میں سے کوئی بھی اُس وقت مسجد میں نہ تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس مہمان کو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے؟ ایک غریب صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اسے ساتھ لے جاتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا اچھا اسے اپنے ساتھ لے جاؤ ۔ وہ صحابی اُس