خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 197

خطبات محمود 197 سال 1947ء مہمان کو اپنے گھر لے گئے۔لیکن اتفاق کی بات ہے کہ اُس دن اُن کے گھر کھانے کے لئے کچھ نہ تھا۔اُن کے ہاں صرف دو روٹیاں تھیں جن کے متعلق عورت کی یہ صلاح تھی کہ ایک خاوند کو کھلا دوں گی اور ایک بچوں کو کھلا دوں گی اور خود بھوکی سور ہوں گی۔جب یہ صحابی اُس مہمان کو ساتھ لے کر گھر پہنچے (اُس وقت تک ابھی پردے کا حکم نازل نہ ہوا تھا ) تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کھانے کے لئے کچھ ہے یا نہیں ؟ بیوی نے بتایا کہ دو روٹیاں ہیں۔اس صحابی نے بیوی سے کہا کہ بچوں کو کسی طرح ملا دو۔جب بچے سو جائیں گے تو ہم کھانا مہمان کے آگے رکھ دیں گے۔بیوی نے کہا کہ مہمان اکیلا کس طرح کھائے گا ؟ وہ ہمیں بھی ساتھ کھانے کو کہے گا۔میاں نے کہا میں تمہیں کہوں گا کہ دیئے کی بتی اونچی کر دو اور تم بھی اونچی کرنے کے بہانہ سے دیا بجھا دینا۔جب اندھیرا ہو جائے گا تو ہم ساتھ بیٹھ کر خالی مچا کے مارتے جائیں گے اور مہمان یہ سمجھے گا کہ ہم بھی اس کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔بیوی نے بچوں کو سلا دیا۔اور جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو میاں نے بیوی سے کہا کہ روشنی ذرا اونچی کر دو۔اُس وقت گھروں میں دیئے ہوتے تھے جن میں روئی کی بتی ڈالی جاتی ہے اور جن کو بجھانا کوئی مشکل ہے بات نہیں ہوتی۔بیوی نے روشنی اونچی کرتے ہوئے بتی نیچے گرا دی جس سے دیا بجھ گیا۔میاں کے بیوی کو بناوٹی طور پر خفا ہونے لگا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے؟ اب مہمان کو تکلیف ہو گی۔جاؤ اور کسی کا دروازہ کھٹکھٹاؤ اور آگ لا کر دیا روشن کرو۔مہمان کو اس طرح اندھیرے میں بٹھانا ٹھیک نہیں۔بیوی نے جواب دیا اب میں کیا کروں؟ کس کو جا کر تکلیف دوں؟ سب لوگ سو گئے ہوں گے۔اب اسی طرح اندھیرے میں ہی کھانا کھا لیں۔یہ لازمی بات تھی کہ مہمان نے یہی کہنا تھا ہاں رہنے دیجئے ہم اندھیرے میں ہی کھانا کھا لیں گے۔چنانچہ انہوں نے اندھیرے میں ہی مہمان کے سامنے کھانا رکھا۔مہمان نے کھانا شروع کر دیا اور یہ میاں بیوی ساتھ بیٹھے خالی مچا کے مارتے چلے گئے۔مہمان یہ سمجھا کہ میاں بیوی میرے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔انہوں نے مہمان کو کھانا کھلا کر سلا دیا۔صبح نماز کے لئے وہ صحابی مسجد میں گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیر کر فرمایا اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو۔میں نے ایک بات کہنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے بتائی ہے۔سب صحابہ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہے۔آپ نے فرمایا ایک شخص کے گھر مہمان