خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 193

سال 1947ء 193 خطبات محمود رکھتا یا کمزور دل ہے تو یہ بات اخلاق کے خلاف ہے کہ اُسے مجبور کر کے ساتھ شامل کیا جائے کیونکہ اُس کو مجبور کر کے ساتھ شامل کرنا اُسے قتل کرانے کے مترادف ہے اور عقل کے خلاف بھی ہے کیونکہ یہ شخص میدان سے بھاگے گا اور تمہاری صفوں میں رخنہ ڈال دے گا ۔ اور اگر اُس میں جرات اور بہادری تو ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ میں تمہارے متعلق کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ اگر تم مارے جاتے ہو تو بے شک مارے جاؤ مجھے تم سے کوئی ہمدردی نہیں تو ایسے شخص کو بھی لڑائی میں شامل کرنا عقل کے خلاف ہے۔ جس شخص کے دل میں تمہارے لئے کوئی ہمدردی نہیں اگر وہ مجبور لڑائی کے لئے نکلے گا بھی تو میدان سے بھاگ جائے گا اور زیادہ فتنہ کا موجب بنے گا۔ پس دونوں صورتوں میں کسی کو مجبور کرنا عقل کے خلاف ہے۔ جو شخص ایک من بوجھ اٹھا سکتا ہے اُسے دو من اٹھانے پر مجبور کرنا عقل کے خلاف ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہاد کیلئے یہ کیسا سخت حکم تھا کہ جو مسلمان جہاد کیلئے نہ نکلیں وہ اسلام سے خارج ہیں لیکن اس حکم کے باوجو د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی دیکھتے تھے کہ کون جہاد کے قابل ہے اور کون نہیں ۔ حسان بن ثابت کا دل کسی بیماری کی وجہ سے سخت کمزور ہو گیا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لئے جاتے تو حسان بن ثابت کو عورتوں کے پاس چھوڑ جاتے ۔ جنگ احزاب کے موقع پر دشمن نے مدینہ پر حملہ کیا اور مدینہ کا محاصرہ کر لیا ۔ مدینہ کے یہودی کفار کے ساتھ مل گئے اور مسلمانوں سے غداری کرتے ہوئے کفار کی مدد کرنے لگ گئے ۔ یہودیوں میں سے ایک آدمی جاسوس کے طور پر یہ دیکھنے کے لئے آیا کہ مسلمان عورتیں اور بچے کہاں ہیں؟ جس مکان میں مسلمان عورتیں جمع تھیں وہ اُس میں جھانک کر دیکھ رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ نے اُس کو دیکھ لیا آپ کو معلوم ہو گیا کہ یہ جاسوسی کرنے کے لئے یہاں آیا ہے۔ جب اُس یہودی کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہاں مسلمان عورتیں اور بچے ہیں اور حسان بن ثابت کے سوا یہاں کوئی مرد نہیں تو اُس نے واپس جانے کا ارادہ کیا تا کہ وہ یہود کو اطلاع دے اور وہ عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں ۔ حضرت صفیہ سمجھ گئیں کہ یہ جاسوس ہے کیونکہ اس سے قبل یہ خبریں آ رہی تھیں کہ یہودی کفار کے ساتھ مل گئے ہیں۔ حضرت صفیہ نے حضرت حسان بن ثابت کو کہا یہ شخص جاسوس ہے۔ تم آگے بڑھو اور اسے قتل کر دو کیونکہ اگر یہ واپس چلا گیا تو سب مسلمان عورتیں اور بچے مار دیئے جائیں گے۔ حضرت حسان بن ثابت نے اور