خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 194

خطبات محمود 194 سال 1947ء کہا اگر میں ایسا لڑنے والا ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہاں کیوں چھوڑ جاتے۔حضرت صفیہ نے کہا اچھا تم بیٹھو اور تلوار مجھے دے دو۔آپ نے تلوار لے کر اس پر حملہ کیا اور اسے زخمی کر کے گرا دیا۔5 جب وہ زخمی ہو کر گرا تو اُس کا کرتہ اُس کے منہ پر آ گیا اور وہ ننگا ہو گیا۔یہودیوں میں اُس زمانہ میں رواج تھا کہ وہ ایک ہی لمبا سا کرتہ پہنتے تھے۔بلکہ آجکل بھی گاؤں وغیرہ میں یہودی ایک ہی لمبا سا گر تہ پہنتے ہیں۔جب وہ ننگا ہو گیا تو حضرت صفیہ نے اپنا چی منہ ایک طرف کر لیا اور حضرت حسان سے کہا کہ تم اُس پر چادر ڈال دو پھر میں اُس سے ہتھیار چھین لونگی۔حضرت حسان نے کہا بی بی! اگر اس میں کچھ جان ہوئی تو پھر میں کیا کرونگا؟ آپ خود ہی کوئی تدبیر کریں۔چنانچہ حضرت صفیہ نے ایک طرف منہ کر کے اُس پر کپڑا ڈال دیا اور اُس سے ہتھیار چھین لئے۔اب دیکھو !احستان کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہم حسان کو آگے کریں گے۔کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جس شخص کا دل کمزور ہے وہ پیچھے رہے تو بہتر ہے۔پس اگر خدانخواستہ ایسا موقع آ جائے تو احمدی ہندوؤں کی اپنے عزیزوں سے بڑھ کر حفاظت کریں گے۔اور یہ فقرہ اگر کسی نے کہا ہے تو یہ اُس کی انفرادی غلطی ہے۔ہمارا طریق یہی ہوگا کہ ہر وہ ہندو یا سکھ یا غیر احمدی جو حفاظت قادیان میں حصہ نہیں لینا چاہتا ہم اسے مجبور نہیں کرینگے کہ وہ اُس میں ضرور حصہ لے۔یہ ہر ایک کی اپنی مرضی پر ہوگا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے شہر کی حفاظت میں حصہ لے یا نہ لے۔ویسے ہر عقلمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر شہر کو خدانخواستہ جلا یا یا تباہ کیا گیا تو اُس میں ہندو ،سکھ اور غیر احمدی بھی اپنی نسبت کے لحاظ سے نقصان میں شریک ہوں گے۔اگر ان کی آبادی کم ہے تو ان کا نقصان بھی کم ہوگا۔لیکن بہر حال وہ بھی اجی نقصان میں ضرور حصہ دار ہوں گے۔بہر حال ہماری طرف سے خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر احمدی مالی اور غیر مسلم آبادی کے ساتھ شریفانہ معاملہ ہوگا۔اور اگر کوئی احمدی غلطی سے کسی کو دُکھ دے گا تو جی ہم اسے سزا دیں گے کیونکہ کسی پر ظلم کرنا احمدیت کی تعلیم کے خلاف ہے۔بلکہ اسلام تو دوسری ہے قوموں پر احسان کرنے کا حکم دیتا ہے۔ہماری انتہائی کوشش یہی ہوگی کہ ہمارے پاس جو امانتیں مانی ہیں وہ بالکل محفوظ رہیں۔ہم ہندوؤں ، سکھوں اور غیر احمدیوں کی یہ بھی شرافت سمجھیں گے کہ وہ جی اردگرد کے لوگوں کو سمجھا ئیں کہ وہ فساد نہ کریں۔اور اگر وہ لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم