خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 11

خطبات محمود 11 سال 1947ء یہ کہ جماعت کی آمد بڑھ جائے۔یہ دونوں صورتیں ہماری جماعت کے لئے ضروری ہیں۔اگر جماعت کے چندوں میں آئندہ اضافہ نہ ہو تو ریز روفنڈ قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ خطرہ ہے کہ یہ بوجھ پہلے ریز روفنڈ کو بھی نہ کھا جائے۔آج ہم پر تحریک جدید کا تیرھواں سال گزر رہا ہے۔اس سال کو اگر نکال دیا جائے تو اس دور میں حصہ لینے والوں کے لئے چھ سال باقی ہیں۔اور اگر اس سال کو شامل کر لیا جائے تو سات سال ہو جاتے ہیں۔اُن لوگوں نے جو پہلے دور میں شامل ہیں تحریک جدید کے اخراجات کا بوجھ بھی اٹھایا ہے اور ساتھ ایک ریز روفنڈ بھی قائم کیا ہے۔اور دفتر دوم والوں کا روپیہ فی الحال جمع ہے ہوتا جا رہا ہے۔ہم دفتر دوم کو اس قابل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ دفتر اول کے بوجھ کو اٹھا سکے۔مجھے افسوس ہے کہ اس سال وعدوں کی تعداد تسلی بخش نہیں۔بعض جماعتوں نے ابھی تک اپنے وعدے نہیں بھجوائے۔باوجود اس کے کہ دفتر یاددہانی کروا رہا ہے۔وعدوں کے بھجوانے کی آخری تاریخ 10 فروری ہے۔اس کے بعد ان حصوں کے وعدے نہیں لئے جائیں گے جہاں ہے اردو بولی یا مجھی جاتی ہے۔مثلاً پنجاب، سرحد، یو پی وغیرہ۔لیکن وہ صوبے جہاں اردو نہیں بولی جاتی بلکہ وہ غیر زبان بولتے ہیں۔مثلاً بنگال وغیرہ اُن کے لئے آخری تاریخ اپریل ہے۔اور ی ہندوستان کے باہر جون تک کے وعدے لے لئے جائیں گے۔جون کے بعد جو وعدے آئیں گے وہ نہیں لئے جائینگے۔آج 17 جنوری ہے۔اس حساب سے گویا وعدوں کے لئے چوبیس دن باقی ہیں اور ابھی نصف کے قریب وعدے باقی ہیں۔اور تو اور قادیان کی جماعت میں ایک حصہ ایسا ہے جس نے اپنے وعدے ابھی تک نہیں بھجوائے۔لجنہ کے متعلق تو مجھے یقینی طور پر علم ہے۔اور مردوں میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جن کے وعدے موصول نہیں ہوئے۔حالانکہ قادیانی ایسی جگہ ہے جہاں ہر تحریک کے متعلق سب سے پہلے کام شروع ہونا چاہئیے۔کیونکہ قادیان کی والوں کو بیرونی جماعتوں کی نسبت پہلے علم ہوتا ہے۔اس لحاظ سے قادیان کی جماعت کو یہ کوشش کرنی چاہئیے کہ وہ بیرونی جماعتوں کی نسبت زیادہ توجہ سے کام کریں۔بیرونی جماعتوں میں سے بھی بہت سی جماعتیں باقی ہیں جن کے وعدے نہیں آئے۔معلوم نہیں کہ کیوں اس سال سستی سے کام لیا گیا ہے۔یا تو عہد یداروں نے پوری کوشش نہیں کی اور یا خود افراد نے ابھی تک پوری توجہ نہیں کی۔