خطبات محمود (جلد 28) — Page 12
خطبات محمود 12 سال 1947ء میں آج کے خطبہ کے ذریعہ جماعت کو اُس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔جماعت کو چاہیے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے بھجوائے۔اگر وعدے جلدی نہ بھیجے جائیں تو تبلیغی کاموں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔جماعت کو خود اس بات کا احساس ہونا چاہئیے کہ جماعت کی تبلیغی مساعی میں کوئی روک واقع نہ ہو۔میں نے پہلے بتایا تھا کہ اس میں شبہ نہیں کہ جہاں تک تحریک جدید کے کاموں کو چلانے کا سوال ہے جماعت نے اس معاملہ میں بے نظیر قربانی پیش کی ہے۔اور ہر قربانی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ انسان کو آئندہ اُس سے بڑھ کر قربانی کرنے کی توفیق عطا کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مومن کی قربانی اُس بیچ طرح ہوتی ہے جو کہ پھولتا ، پھلتا اور بار بار پھل لاتا ہے 1۔اگر ایک شخص اخلاص کے ساتھ تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُسے قبول کر لیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئیے کہ آئندہ سال اُسے پہلے کی نسبت زیادہ قربانی کرنے کی توفیق ملے۔میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالی لاین اپنے فضل سے ہمارے نصف سے زیادہ دوستوں کو پہلے کی نسبت زیادہ قربانی کرنے کی توفیق ہے دے رہا ہے۔اور جن کو قربانی میں بڑھنے کی توفیق نہیں ملی اُن کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئیے اور پنے اندر تبدیلی پیدا کرنی چاہئیے اور اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکنا چاہئیے تا کہ اللہ تعالیٰ اُن کی ستیوں اور کمزوریوں کو دور کرے اور قربانیوں میں قدم آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔گزشتہ سال یعنی تحریک جدید کے بارھویں سال گزشتہ سالوں کی نسبت جماعت نے بہت اچھا کام کیا ہے اور اس سال 30 نومبر تک 92 فیصدی وعدوں کی وصولی ہو گئی۔یہ خوشکن بات ہے۔اور یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ وعدہ کرنے والوں نے اخلاص سے وعدے کئے۔اسی لئے اُن کو ان کے پورا کرنے کی توفیق ملی۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی دوست پوری توجہ کے ساتھ تحریک جدید کے کاموں میں حصہ لیں گے۔دور اؤل والوں کے 19 سالہ دور میں سے باره سال گزر چکے ہیں۔بارہ سال قربانی کرنے کے بعد سستی کرنا ایک افسوسناک امر ہے۔گویا 62 فیصدی زمانہ گزر چکا ہے۔زیادہ رستہ طے ہو چکا ہے اور تھوڑا رستہ باقی ہے اور اب منزل قریب نظر آ رہی ہے۔اب سُست ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔پس میں جماعت قادیان اور بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ وقت پر اپنی پوری کوشش کے ساتھ جتنی جلدی ہو سکے اپنے