خطبات محمود (جلد 28) — Page 173
سال 1947ء 173 خطبات محمود سے نصف ماہ کی آمد یا ان کی جائیداد کا 1/2 فیصدی لینے پر مشتمل ہے ہم نے یہ قانون بھی پاس کیا ہے کہ جو لوگ اس تحریک میں شامل نہ ہوں یا غیر واقفین کی صورت میں اپنی جائیداد کا 1/2 فیصدی یا ایک ماہ کی نصف آمد بھی دینے کے لئے تیار نہ ہوں اُن کو آئندہ سلسلہ کے ہنگامی کاموں میں شامل نہ کیا جائے۔ پس جماعتوں کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے وعدے جلد از جلد بھجوا دیں وہاں اُن کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ مجھے اس بارہ میں بھی اطلاع دیں کہ کون کون سے لوگ اس تحریک میں حصہ نہیں لے رہے تا کہ اُن کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ ابھی تک کسی جماعت نے بھی ایسی اطلاعات بہم نہیں پہنچائیں۔ حالانکہ اس تحریک کے مثبت اور منفی دو حصے ہیں ۔ مثبت حصہ تو یہ ہے کہ کس کس نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے۔ اور منفی حصہ یہ ہے کہ کس کس نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ اور یہ دونوں حصے اہم ہیں۔ منفی کے متعلق ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آئندہ سلسلہ کی ہنگامی تحریکوں میں شامل ہونے کا موقع نہ دیا جائے ۔ سوائے ایسی صورت کے کہ وہ توبہ کریں اور سلسلہ کے سامنے معقول معذرت پیش کریں۔ اگر ان کا عذر جائز ہونے کی صورت میں قبول کر لیا جائے تو اس کے بعد انہیں ہنگامی تحریکوں میں شامل ہونے کا حق ہو گا لیکن اس کے بغیر نہیں۔ پس جماعتوں کو نہ صرف وعدے کرنے والے دوستوں کے نام بھجوانے چاہئیں بلکہ جو لوگ انکار کریں اُن کے نام بھی بھیجوانے چاہئیں ۔ میں نے بار بار اور کھول کر بیان کیا ہے کہ جو لوگ تحریک وقف میں حصہ نہیں لیتے ابھی ہم ان کو مجبور نہیں کرتے کہ اپنی آمد یا جائیداد وقف کریں ۔ ایسے لوگ ایک ماہ کی نصف تنخواہ یا جائیداد کا 1/2 فیصدی دے کر موجودہ تحریک سے عُہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور نادہند اور نادہندگی کے الزام سے بچ سکتے ہیں ۔ بعض دوستوں کو اس بارہ میں یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ جو لوگ ایک ماہ کی نصف تنخواہ یا اپنی جائیداد کا 1/2 فیصدی دینگے ان کو بھی آئندہ ہنگامی تحریکات میں شامل نہیں کیا جائیگا ۔ چنانچہ اس قسم کا ایک نوٹ میں نے الفضل میں بھی دیکھا ہے جو تحریک جدید کی طرف سے تھا۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے ۔ میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ ہر شخص اپنی جائیداد یا آمد ضرور وقف کرے ۔ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ مومن کا ایمان اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ وہ اپنی ائیداد اور آمد اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے ۔ اس لئے دوستوں کو وقف کرنا چاہیئے ۔ اور ظاہر ہے کہ وقف کرنا چاہیئے“ اور ” وقف کرنے میں بڑا بھاری فرق ہے۔ ایسے آدمی ہو سکتے ہیں جو وقف