خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 172

خطبات محمود 172 سال 1947ء مجھے کوئی اطلاعات نہیں پہنچیں۔میں نے اس تحریک کے وعدوں کے لئے ڈیڑھ ماہ کی میعاد مقرر کی تھی جو 20 مئی کو ختم ہو جاتی ہے۔مگر چونکہ یہ نئی تحریک ہے اور دوستوں کو ایک وقت اس کے سمجھنے میں بھی لگا ہے اس لئے میں اس کی مدت 31 مئی تک بڑھا دیتا ہوں۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دوست ضرور 31 مئی تک ہی انتظار کرتے رہیں۔بلکہ نیکی کے کام میں جلد سے جلد حصہ لینا بھی انسان کے ثواب کو بڑھانے کا موجب ہوتا ہے۔اور جس طرح گورنمنٹ سروس میں یہ قاعدہ ہے کہ جو شخص پہلے سروس میں شامل ہو اُس کو بعد میں شامل ہونے والوں سے سینیئر (SENIOR) سمجھا جاتا ہے اور آئندہ ترقیات میں اس کی سینیارٹی (SENIORITY) کا لحاظ رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ دنوں کا بھی حساب رکھا جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص اگر یکم تاریخ کو سرکاری ملازمت میں شامل ہو تو اُس کو اُس شخص سے سینیئر اور بال سمجھا جاتا ہے جو دوسری تاریخ کو شامل ہو حالانکہ فرق صرف ایک دن کا ہوتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے حضور میں بھی وہ لوگ جو قر بانیوں میں پیش پیش ہوتے ہیں زیادہ ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔سوائے اسکے کہ انکی راہ میں ایسی مشکلات اور وقتیں ہوں جنکی وجہ سے ان کا بعد میں آنا پہلے آنے والے کے برابر سمجھا جائے۔مگر یہ چیز تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہ مجھے کسی کے متعلق کیا فیصلہ کرے گا انسان اس کے متعلق کچھ جان نہیں سکتا۔اس لئے ظاہر پر نظر کرتے ہوئے ہر جماعت کا فرض ہے اور فرض ہونا چاہیئے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر جماعت کا یہ حق ہے اور اُسے اپنا یہ حق لینے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ دوسری جماعتوں سے پہلے اپنے وعدے لکھائے تا کہ نہ صرف وہ ثواب میں شامل ہو بلکہ بعد میں شامل ہونے والوں سے خدا تعالیٰ کے حضور مقدم سمجھی جائے۔جہاں تک نظام کا تعلق ہے۔جس رنگ میں تحریک جدید کا محکمہ کام کر رہا ہے میرے نزدیک بیت المال والے اُس رنگ میں کام نہیں کر رہے۔تحریک جدید کی رپورٹوں میں نہ صرف یہ اطلاع ہوتی ہے کہ کس حد تک وعدے آئے ہیں بلکہ وہ یہ بھی اطلاع دیتے ہیں کہ انہوں نے اس بارہ میں کیا کوششیں کی ہیں۔مگر بیت المال والوں کی طرف سے کوئی ایسی رپورٹ جو حقیقت پر مبنی ہو اور جس سے معلوم ہو سکے کہ معقول طور پر جدوجہد کی جارہی ہے اب تک میرے پاس نہیں پہنچی۔اور در حقیقت میں ابھی تک اس بات سے ناواقف ہوں کہ صحیح طور پر ہر جماعت پر حجت پوری کر دی گئی ہے یا نہیں۔دوستوں کو یا درکھنا چاہیئے کہ اس تحریک کے متعلق جو وقف آمد یا وقف جائیداد کی ہے یا غیر واقفین