خطبات محمود (جلد 28) — Page 167
خطبات محمود 167 سال 1947ء گزارتے ہیں۔اور سلسلہ بھی اُن سے ایسے اوقات میں اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ وہ کمائی نہیں کر رہے ہوتے۔اور اسی طرح وکلاء کا بھی کام کرنے کا وقت عام طور پر دس بجے سے تین چار بجے تک ہوتا ہے۔تین چار بجے عدالتیں بند ہو جاتی ہیں اور وکلاء فارغ اوقات میں اپنے گھروں میں مقدموں کی تیاری کرتے ہیں۔اور کچھ وقت وہ بیوی بچوں میں بیٹھ کر گزارتے ہیں۔اسی طرح انکے اوقات کا کچھ حصہ سیر و تفریح میں گزرتا ہے۔ایسے فارغ اوقات میں ان کو خدمت دین کے کام کرنے چاہئیں۔اور اگر یہ سمجھا جائے کہ فارغ وقت صرف وہی ہے جس میں انسان کو کوئی کام نہ ہو باقی تمام اوقات مصروفیت کے ہیں اور اس مسئلہ کو لمبا کیا جائے تو پھر تو نمازوں کو بھی ترک کرنا پڑے گا۔ہندوستان کے ایک بڑے لیڈر جب بوڑھے ہوئے تو وہ نماز کے تارک ہوئے۔اور انہوں نے کہا کہ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں جو وقت نماز پڑھنے میں صرف کرتا ہوں کیوں نہ اس وقت میں کوئی قومی خدمت ہی سرانجام دیا کروں۔مگر وہ تو پھر بھی اپنا وقت قومی خدمت میں صرف کرتے تھے۔لیکن دنیا میں اکثر آدمی ایسے ہیں جو اپنے فارغ اوقات سیر و تفریح اور گیوں وغیرہ میں گزار دیتے ہیں۔لیکن جب دین کی خدمت کرنے کا سوال آ جائے تو ان کا چوبیس گھنٹے کا دن صرف چھ گھنٹے کا بن جاتا ہے۔چوبیس گھنٹوں میں سے سات آٹھ گھنٹے کام کرنے کے ہوئے باقی دس گھنٹے رہ گئے۔کوئی شخص سولہ گھنٹے سوتا نہیں۔نہ ہی کوئی انسان سولہ گھنٹے نہاتا رہتا ہے۔نہ ہی کوئی انسان سولہ گھنٹے کھاتا رہتا ہے۔نہ ہی کوئی انسان سولہ گھنٹے پاخانہ میں بیٹھا رہتا ہے۔اِن سب کاموں کے لئے اگر آٹھ گھنٹے رکھ لئے جائیں تو پھر بھی آٹھ گھنٹے بچ جاتے ہیں جن میں انسان نمازیں پڑھ سکتا اور سلسلے کے کام کر سکتا ہے۔آٹھ نہ سہی سات سہی۔سات نہ سہی چھ سہی۔چھ نہ سہی پانچ سہی۔پانچ نہ سہی چار سہی۔چار نہ سہی تین سہی۔کم از کم تین گھنٹے تو ہر انسان کے پاس فارغ ہو سکتے ہیں جن میں سے وہ ڈیڑھ گھنٹہ میں نمازیں ادا کر سکتا ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ وہ سلسلہ کے کاموں میں صرف کر سکتا ہے۔پس جماعت کی کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ اس کے اثر رکھنے والے افراد دین کی خدمت کے لئے وقت نکا لیں۔اور ہر احمدی کو یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ دین کی خدمت سے ہی اصل عزن