خطبات محمود (جلد 28) — Page 166
خطبات محمود 166 سال 1947ء میں نہیں آتے تھے۔اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ مجھ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رعب اتنا زیادہ غالب ہے اور آپ کا ادب میرے دل میں اس قدر پایا جاتا ہے کہ میں آپ کے لی سامنے بیٹھ نہیں سکتا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ایک دفعہ مجلس میں اس بات کے خلاف تقریر کی اور آپ نے فرمایا یہ نفس کا دھوکا ہے۔چونکہ ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ میری مجلس میں نہ آنا ایک گناہ ہے اس لئے اس گناہ کے دکھ سے بچنے کے لئے انکے نفس نے یہ بہانا بنالیا اور مجلس میں نہ آنے کا باعث انہوں نے ادب اور اعزاز اور رعب قرار دے دیا حالانکہ یہ نفس کی سستی اور غفلت کی علامت ہے۔کیا دوسروں کے دلوں میں ادب اور اعزاز نہیں ؟ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوری ایک مجلس اسی بات کے متعلق خرچ کی اور آپ نے مجلس میں نہ آنے کو نفس کا بہانہ قرار دیا۔اسی طرح اس قسم کے لوگ یہ کہہ کر اپنے نفسوں کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے خدمت دین کے کاموں میں حصہ نہ لیا تو کیا ہوا ہم چندے سے سلسلہ کی زیادہ مدد کر رہے ہیں مگر یہ بھی ان کے نفسوں کا دھوکا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکے ہیں اور بیعت کر چکے ہیں۔اور وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے لئے دین کا نیچے کام کرنا ضروری ہے۔لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ان کے اپنے نفس کو اس دکھ اور تکلیف سے بچانے کے لئے ( جو نمیر کی لعنت و ملامت سے ہوتی ہے ) یہ بہانہ تراش کر پیش کر دیتے ہیں کہ ہم چندے زیادہ دے رہے ہیں اور یہی دین کی خدمت ہے۔چونکہ اس قسم کے لوگ دوسرے آدمیوں میں اپنی عزت قائم رکھنا چاہتے ہیں اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جماعت کا صحیح اور کارآمد عضو ہیں اس لئے وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم زیادہ روپیہ کما کر زیادہ چندہ دیتے ہیں۔حالانکہ دین کی خدمت کے لئے صرف دفتر کا وقت ہی ضروری نہیں۔وہ دفتر کے اوقات میں بے شک دفتر کا کام کریں لیکن دفتر کے اوقات ہوتے کتنے ہیں؟ کیا چوبیس گھنٹے ہی دفتر کا کام کرتے ہیں؟ دفتر کا وقت تو دس بجے سے چار بجے تک ہوتا ہے۔اور تو اور ڈاکٹروں وکیلوں وغیرہ کی کمائی کا وقت بھی عام طور پر چھ سات گھنٹہ ہی ہوتا ہے۔اس کے بعد لوگ گئیں مارتے ہیں اور سیر کے لئے نکلتے ہیں۔سرکاری دفاتر میں کام کر نیوالوں کا وقت بھی جیسا کہ میں نے کہا ہے عام طور پر دس بجے تک ہوتا ہے۔چار بجے کے بعد لوگ اپنا فارغ وقت سیر و تفریح اور کیوں وغیرہ میں