خطبات محمود (جلد 28) — Page 153
خطبات محمود 153 سال 1947ء۔کے ماتحت اپنی ایک ماہ کی آمد وقف کرے یا اپنی جائیداد کا سواں حصہ دے تو دفتر کا فرض ہے کہ جو شخص وقف کے دفتر میں اپنی وقف آمد یا وقف جائیداد کی اطلاع دیتا ہے اس سے مطالبہ شروع کر دے۔اس کے لئے مزید وعدے کی ضرورت نہیں۔یہ ایک سیدھی سادی بات تھی لیکن دفتر اس کو بھی نہیں سمجھ سکا۔اُن کا فرض تھا کہ وقف جائیداد والوں سے فہرستیں لے لیتے اور مطالبہ شروع کر دیتے۔دفتر وقف جائیداد کی طرف سے جو وعدوں کی فہرست میرے پاس آئی ہے اُس کے حساب سے ساڑھے چار لاکھ کے کل وعدے ہوتے ہیں۔جہاں واقفین یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم نے دفتر وقف جائیداد کو اطلاع دے دی کہ ہماری جائیداد اتنی ہے اور ہم سے 1/100 لے لیا جائے تو ہمارا وعدہ ہو گیا۔اسی طرح وقف آمد والے بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی ایک ماہ کی آمد کی اطلاع دے دی ہے۔ہمارا وعدہ چلا گیا ہے۔اور وہ اپنی اپنی جگہ مطمئن ہیں کہ ہمارا وعدہ پہنچ گیا۔مگر دفتر بیت المال والے اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ وعدہ کرنے والے لوگ دوبارہ ہمیں لکھیں کہ جو بات ہم نے دفتر وقف جائیداد کو لکھی تھی وہ سچی ہے، جھوٹی نہیں ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔جب وہ ایسا لکھ دیں گے تو بیت المال والے سمجھیں گے کہ اب ان کا وعدہ آگیا ہے۔یہ طریق کار میری سمجھ میں نہیں آیا۔دفتر بیت المال والوں کا فرض تھا کہ جب لوگوں نے دفتر وقف جائیداد میں اطلاع می دے دی تھی وہ فورا وقف کرنے والوں سے مطالبہ شروع کر دیتے کہ اگر آپ نے یکدم دینا ہے تو ابھی بھجوائیے اور اگر آپ نے قسط وار ادا کرنا ہے تو ابھی سے اس کا 1/6 بھجوا دیجئے کیونکہ چھ ماہ کا چی عرصہ اس چندہ کی ادائیگی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔یہ تو دفتری غلطی تھی۔دوسری طرف میں دیکھتا ہے ہوں کہ جماعت میں بھی اس کے متعلق پوری بیداری نہیں۔اور زمیندار جماعتوں نے تو اس تحریک ہے کی طرف بہت کم توجہ کی ہے۔جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بیان کیا ہے ہماری جماعت کے ایک ہزار سے زیادہ مربعے پنجاب میں ہیں۔اور میرے نزدیک اس سے دگنی زمین مربعوں کے علاوہ احمدیوں کی ملکیت ہے۔یعنی وہ زمین جو کہ چاہی یا بارانی یا نہری ہے اور لائل پور، منٹگمری ، ملتان اور سرگودھا کے اضلاع کے علاوہ ہے۔بلکہ میرا خیال ہے کہ دُگنی سے بھی زیادہ ہو گی۔یہ کم سے کم اندازه ای ہے۔اور اس اندازہ کے لحاظ سے کم از کم پچھتر ہزا را یکٹر زمین بنتی ہے۔حقیقت میں اس سے بہت زیادہ زمین احمدیوں کے پاس ہوگی۔آجکل کی قیمت کے لحاظ سے اگر کم سے کم پانچ سوروپیہ فی ایکڑ