خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 132

خطبات محمود 132 سال 1947ء یتے۔لکھا ہے کہ اس کے پاس اتنا مال زکوۃ کا جمع ہو گیا تھا کہ اس کے زکوۃ کے جانوروں سے ایک وادی بھر جاتی تھی لیکن جب وہ حضرت ابو بکر کے پاس مال لے کر آتا تو آپ فرماتے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ نہیں لی میں کس طرح لے سکتا ہوں۔وہ روتا ہوا واپس چلا جاتا۔7 پس یہ مت سمجھو کہ ہم کمزوروں کے لئے راستہ کھول رہے ہیں بلکہ ہم تو ان کے ایمان کی چنگاری کو سلگا رہے ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے۔وہ ہمارے کاموں کا نگہبان ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے رستہ میں قربانی کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے وہ انعام سے اپنے آپ کو محروم کر لیتا ہے۔پس ہماری جماعت کو اپنی قربانی کے معیار کو بہت بلند کرنا چاہیئے اور میرے نزدیک مومن کے لئے سب سے بڑی سزا یہی ہے کہ اس کا چندہ قبول نہ کیا جائے۔ہم اس کا ماہوار چندہ واپس نہیں کریں گے لیکن خاص چندوں میں وہ شریک نہیں ہو سکے گا۔دنیا داروں کے نزدیک تو سزا یہ ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں جو شخص دینے سے گریز کرتا ہے اس سے دو گنا وصول کرو لیکن ہم اس کو یہ سزا دیتے ہیں کہ آئندہ اس کا چندہ قبول نہ کیا جائے۔قادیان والوں کو تو یہ کام جھٹ پٹ کر دینا چاہیئے ان کیلئے تو ڈیڑھ ماہ کی ضرورت نہیں بلکہ مجھے حیرت ہے کہ اب تک انہوں نے اس کام کو کیوں نہیں کیا۔عورتوں کے متعلق مجھے رپورٹ ملی ہے کہ وہ بے تحاشا جی دوڑ دھوپ کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔مردوں کو بھی چاہئے تھا کہ وہ بھی رات دن ایک کر کے اس کام کو سرانجام دیتے۔یہ کتنا ایمان پرور نظارہ ہوتا کہ ایک بھائی کے دروازے پر دوسرا بھائی ایک دو بجے رات کے دستک دیتا اور اسے جائیداد وقف کرنے یا حصہ آمد ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتا۔اب بھی تمہارے لئے موقع ہے دو تین دنوں میں یہ کام کر کے فہرستیں پیش کر دو تا کہ باہر کے لوگ یہ محسوس کریں کہ قادیان والوں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔تمہاری ذمہ داریاں دوسرے مقامات والوں سے بہت زیادہ ہیں۔مقامات مقدسہ اور تعلیمی اداروں کا فائدہ بھی تمہیں ہی سب سے زیادہ پہنچتا ہے۔باہر کے لوگ تو صرف تمہارے ساتھ ایمان میں شریک ہیں۔تم ایمان میں بھی اور جان میں بھی دونوں میں شریک ہو۔اس لئے تمہاری ذمہ داریاں باہر والوں سے بہت زیادہ ہیں۔ایسا نہ ہو کہ باہر والے قربانی میں بڑھ جائیں اور تم پیچھے رہ جاؤ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک قادیان کے لوگ پیچھے کبھی نہیں رہے۔اور مجھے امید ہے کہ اب بھی قادیان کے لوگ دوسروں سے پیچھے نہیں رہیں گے کیونکہ قادیان اللہ تعالیٰ کے رسول کا تخت گاہ ہے۔