خطبات محمود (جلد 28) — Page 133
خطبات محمود 133 سال 1947ء پھر میں نے توجہ دلائی تھی کہ زیادہ سے زیادہ وصیتیں کرو اور کوئی مرد اور عورت ایسا نہ رہے جو موصی نہ ہو۔اپنے ایمان اور اخلاص میں ترقی کرو۔نیکی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔میں یہ بھی بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس تحریک کے چندے کا دوسرے چندوں پر اثر نہیں پڑنا چاہیئے۔ایسا نہ ہو کہ ماہوار چندوں یا وصیت کے چندوں یا تحریک جدید کے چندوں میں کمی واقع ہوتچی جائے۔اللہ تعالیٰ کا ایک حق دبا کر دوسرا حق ادا کرنا کبھی بھی فائدے کا موجب نہیں ہوتا۔اس طرح ثواب کم ہو جاتا ہے۔اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالو۔صحابہ کو دیکھو کہ وہ تم سے بہت تھوڑا کھا کر اور بہت تھوڑا پہن کر زندہ رہے۔تم پر تو ابھی اسکا عشر عشیر بھی نہیں آیا۔صحابہ کو مکہ میں تیرہ سال تک سخت سے سخت مصائب کا سامنا رہا اور ان کو سالہا سال تک قربانی کرنی پڑی۔اب اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ تم کو اس طرح کی قربانی کرنی پڑے گی تو ثواب میں بھی ان کے برابر ٹھہرو گے۔پس اس ہنگامی چندے کا مستقل چندوں پر اثر نہیں پڑنا چاہیئے۔اگر تم کمی کرو گے تو ثواب کو ضائع کرنے والے ٹھہرو گے۔اس لئے کوشش کرو کہ تحریک کے چندوں اور دوسرے مستقل چندوں میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔تمہارے اپنے مالوں میں اگر کمی واقع ہوتی ہے تو بیشک ہو جائے۔اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے خزانے تمہارے لئے کھولے جائیں گے اور اس کی درگاہ میں تمہارا درجہ بلند کیا جائے گا۔“ 1: لَا تُسْرِفُوا (الانعام:142) (الفضل 16 اپریل 1947ء) :2 جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ (الحج: (79) لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَاسَعَى (النجم :(40) :3 مسلم كتاب الامارة باب ثبوت الجنة للشهيد 4: طه : 115 5: در تمین اردو صفحہ 58 :6 فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَ لَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوَّا ( التوبة : 83) :7 اسد الغابۃ جلد اول صفحہ 238،237