خطبات محمود (جلد 28) — Page 123
سال 1947ء 123 خطبات محمود تیار نہیں ہو سکتا۔ تمہارے پاس یا میرے پاس ہے ہی کیا۔ اور ہم کیا کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہیں۔ لیکن جو کچھ اللہ تعالیٰ ہمیں دینا چاہتا ہے اس کے مقابلہ میں یہ چیزیں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وس اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک ادنی مومن کا انعام زمین و آسمان کی چوڑائی کے برابر ہے۔ 3 یعنی زمین و آسمان کے برابر جگہ اسے دی جائے گی ۔ اور زمین و آسمان کی چوڑائی کے برابر جسے جگہ مل جائے دنیا کے بادشاہ تو اس کے سامنے چوہڑے چمار کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ کتنا بڑا درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہمیں دینا چاہتا ہے۔ ں دینا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پکڑ کر اونچا کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے آواز دے رہا ہے کہ آؤ اور میرے فضلوں کو حاصل کرو۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر نے کے لئے بہت اونچا ہونا پڑے گا پھر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر سکیں گے۔ کیونکہ دینے والے کے پاس سائل ہی جایا کرتا ہے۔ جب ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں تو ہمیں اس کی عطا اور بخشش کو لینے کیلئے اپنے آپ کو عرش کے برابر بلند کرنا ہو گا تب ہم اس عطا کو حاصل کرینگے ۔ پس ہمیں اپنی قربانیوں کے معیار کو بہت بلند کرنا چاہیئے اور ہم انشاء اللہ اپنا ہر قدم بلندی کی طرف ہی رکھیں گے ۔ اس وقت چونکہ سلسلہ کوفوری طور پر بہت سی مالی ضرورتیں پیش آ گئی ہیں جو عام آمد سے یہ ہے رکھا پوری نہیں ہوسکتیں اس لئے میں نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس فوری ضرورت کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ جماعت کے افراد میں سے جس کسی نے اپنا روپیہ کسی دوسری جگہ بطور امانت ہوا ہے وہ فوری طور پر اپنا روپیہ جماعت کے خزانہ میں بطور امانت داخل کر دے تا کہ فوری ضرورت کے وقت ہم اس سے کام چلا سکیں ۔ اس میں تاجروں کا وہ روپیہ شامل نہیں جو وہ چالو تجارت کے لئے رکھتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کسی زمیندار نے کوئی جائیداد بیچی ہوا اور آئندہ وہ کوئی اور جائیداد خریدنا چاہتا ہو تو ایسے لوگ صرف اتنا روپیہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں جو فوری طور پر جائیداد کی خرید کے لئے ضروری ہو۔ اس کے سوا تمام روپیہ جو دوسرے بینکوں میں دوستوں کا جمع ہے سلسلہ کے خزانہ میں جمع ہونا چاہیئے ۔ اگر ہندوستان کے تمام احمدی اس تحریک کی طرف توجہ کریں تو پچاس لاکھ روپیہ آسانی سے جمع ہو سکتا ہے ۔ اگر ہم یہ فرض کریں کہ دس پندرہ فیصدی آدمی ہماری جماعت میں ایسے ہیں جو آئندہ مکان بنانا چاہتے ہیں اور ہم اوسط خرچ فی مکان