خطبات محمود (جلد 28) — Page 121
سال 1947ء 121 خطبات محمود نہایت عقلمند انسان سمجھتے ہیں لیکن دعوی کرنے کے بعد اسے پاگل کہنا شروع کرتے ہیں لیکن پاگل کو لوگ پاگل پہلے کہنا شروع کرتے ہیں اور دعویٰ وہ بعد میں جا کر کرتا ہے۔ میں نے کہا جا کر کہو کہ لوگ تو آپ کو دعوی سے پہلے ہی پاگل سمجھتے تھے۔ پس نبی اور مجنون میں یہ فرق ہوتا ہے کہ پاگل آدمی کی باتیں بغیر جدو جہد کے ہوتی ہیں۔ پاگل آدمی کہتا ہے میں بادشاہ ہوں حالانکہ ہم دیکھتے ہیں اس کے پاس کوئی ایسا سامان نہیں ہوتا، کوئی تیاری نہیں ہوتی اور کوئی ایسی معقول قربانی نہیں ہوتی جو اسے بادشاہت کا مالک بنا دے۔ لیکن جب نبی کہتا ہے تو اس کے ساتھ معقول قربانی بھی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ جتھا بندی بھی ہوتی ہے۔ نبی کی جماعت بڑھتی جاتی ہے اور وہ لوگ اپنی قربانیوں کے اعلیٰ نتائج دنیا کے سامنے پیش جاتی ہے اور اپنی اعلی دنیا کےسامنے کرتے چلے جاتے ہیں۔ گو وہ تھوڑے ہوتے ہیں لیکن وہ صحیح راستہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ اور پھر اس کے ساتھ اُن کی مجنونانہ کوششیں ان کو جلد جلد بڑھانے کا موجب بنتی ہیں۔ اور یہ مجنونانہ کوششیں اُن کے پختہ ایمان کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اور یہ کوششیں اپنے ساتھ عقل و فہم بھی رکھتی ہیں۔ ہمیں دنیا پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم پاگل نہیں اور ہم نکھے اور ست لوگوں کی طرح نہیں انتہائی کوشش کرنے والے ہیں اور ہماری قربانی غیر جگہ اور غیر محل پر نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام کی اشاعت کے لئے ہوتی ہے۔ بے شک ہماری قربانیاں دوسرے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ ہیں لیکن ابھی ایسا رنگ نہیں آیا کہ ہماری جان مال اور عزت کی قربانیاں ایسے مقام پر پہنچ گئی ہوں کہ وہ کامل قربانی کہلا سکیں ۔ وہ مقام ابھی بہت اوپر ہے جس مقام پر اللہ تعالیٰ ہمیں لے جانا چاہتا ہے وہ بہت بلند ہے۔ کہتے ہیں روس کا ایک بادشاہ اپنی رعایا کی حالت معلوم کرنے کے لئے ملک میں چکر لگا یا کرتا تھا۔ ایک دفعہ وہ چلتے چلتے رستہ بھول گیا۔ اس نے ایک فوجی افسر سے جو کہ کار پورل (CARPORAL) تھا اور چھٹی پر آیا ہوا تھا رستہ پوچھا۔ کارپورل انگریزی رینک ہے ۔ پر تھا۔ اور ہماری فوجوں کے لحاظ سے جمعدار سمجھ لو ۔ گاؤں میں جمعدار ہونا بڑی بات ہے ۔ وہ فوجی افسر تو ند نکالے اکڑ کر کھڑا تھا۔ بادشاہ نے جا کر اس سے رستہ پوچھا اس نے نہایت بدد ماغی سے کہا چلو چلو ! مجھے رستے کا علم نہیں ۔ اعلم نہیں ۔ بادشاہ نے خیال کیا عجیب متکبر آدمی ہے کہ رستہ بتانے میں تکبر سے کام لیتا ہے۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ یہ فوجی آدمی ہے۔ بادشاہ نے اُسے پوچھا کیا آپ سپاہی ہیں؟ اس نے نہایت غصے کے ساتھ کہا اوپر بڑھو ۔ بادشاہ نے کہا آپ لانس نائک ( LAINCE NAIK) ہیں؟ اس نے کہا او پر