خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 107

خطبات محمود 107 سال 1947ء تھے اور ان کی زندگی اس رنگ میں گزری۔حضرت آدم کی اولا د بھول گئی لیکن اللہ تعالیٰ اُن کو نہیں بھولا۔پس دین کے لئے جو قربانیاں انسان کرتا ہے وہ اسے ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیتی ہیں۔حالانکہ دنیوی قربانیوں کے مقابلہ میں دین کی قربانی کتنی تھوڑی ہوتی ہے۔انسان اپنے بیوی اوی اور بچوں کے لئے سارا دن مارا مارا پھرتا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں سے صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نیک کاموں میں صرف کرتا ہے اور باقی بائیس یا تمیس گھنٹے وہ اپنی ضروریات کے پورا کرنے میں صرف کر دیتا ہے۔اور وہ یہ کوشش کرتا ہے محنت کر کے اور کوشش کر کے کچھ اندوختہ جمع کرے، کچھ جائیداد بنائے جو کہ اُس کی اولاد کے کام آئے اور تا کہ اُس کا بڑھا پا آسانی سے گزر سکے۔لیکن وہی اولا د جس کے لئے وہ اپنے آپ کو تکالیف میں ڈالتا ہے اور اپنے نفس پر اس کو ترجیح دیتا ہے اور اس کے لئے سب کچھ کر گزرتا ہے اس میں بڑھا پا آتے ہی بغاوت اور نشوز کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔میرے پاس ہزاروں ہزار کیس ایسے آتے ہیں کہ بعض نوجوان اپنی ماؤں کی خبر گیری ترک کر دیتے ہیں۔اور جب پوچھا جاتا ہے تو اُن کا یہ جواب ہوتا ہے کہ اماں جی کی طبیعت تیز ہے اور میری بیوی سے ان کی بنتی نہیں۔حالانکہ بیوی کو ماں سے کیا نسبت؟ بیوی نے اس کے فائدے کے لئے کیا کیا ہوتا ہے؟ وہ نو جوانی کی حالت میں اس کی خدمت کرتی ہے لیکن ماں جس نے اپنی چھاتیوں سے دودھ پلایا ہوتا ہے اور جس نے اپنا خون دودھ کی شکل میں تبدیل کر کے اُس کی پرورش کی ہوتی ہے اور محنت مشقت کر کے اُسے پڑھایا ہوتا ہے اُس سے اِس لئے اعراض کر لیا جاتا ہے کہ بیوی سے اُس کی بنتی نہیں۔پس دنیوی لحاظ سے تو انسان کو جسمانی اولاد سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچتا۔لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ہر چیز اولادوں کے لئے جمع کرتے چلے جاتے ہیں۔خدا کی راہ میں بھی خرچ کرتے ہوئے ان کے دلوں میں بخل پیدا ہوتا ہے کہ یہ بھی ہمارے بچوں کے کام آئے۔حالانکہ ان کی اُخروی زندگی کے لئے وہی اندوختہ کارآمد ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا۔اور جو اولا د کو دے دیا اس میں انکا حصہ نہیں رہتا۔اگر اس میں سے اولاد اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتی تو وہ گنہگار بنتی ہے اور ساتھ یہ شخص بھی گنہ گار بنتا ہے۔اور اگر اولا د اس مال میں خرچ کرتی ہے تو اس کا ثواب اولا د کو ملے گا جس نے خرچ کیا اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہوگا۔