خطبات محمود (جلد 28) — Page 64
خطبات محمود 64 سال 1947ء ماتحتوں کی رائے پر عمل نہ کرے بلکہ خود اس معاملہ کی تحقیقات کر لے۔اُس نے اس کا وعدہ کیا۔چنانچہ اُس نے جو چٹھی اس محکمہ کے ڈائریکٹر کو لکھی اُس کی ایک کاپی مجھے خانصاحب منشی برکت علی صاحب نے ( جو کہ آجکل جائنٹ ناظر بیت المال ہیں ) بھجوائی (اُس وقت خان صاحب اس محکمہ کے افسر تھے ) اُس چٹھی میں یہ لکھا تھا کہ فلاں افسر کے خلاف رپورٹ ہوئی ہے۔میں چاہتا ہے ہوں کہ اس معاملہ کا آپ خود مسل پڑھ کر فیصلہ کریں، ماتحتوں کی رپورٹوں پر فیصلہ نہ کریں۔آگے اُس نے لکھا تھا کہ گو اس افسر کے خلاف ایک انگریز افسر نے شکایت کی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جس شخص نے میرے پاس سفارش کی ہے وہ ایسا راستباز ہے کہ جب تک اُس نے پوری تحقیق نہ کر لی ہو وہ سفارش نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے میں اُس کی بات کو محکمانہ رپورٹ پر ترجیح دیتا ہوں۔اب دیکھو جس شخص کی رپورٹ کو وہ رڈ کر رہا تھا وہ انگریز اور اپنے محکمہ کا افسر تھا۔لیکن اُسے چونکہ یہ یقین ہو گیا تھا کہ میں واقعہ کی بلا تحقیق تائید نہیں کر سکتا اس لئے اُس نے نہایت دلیری کے ساتھ لکھ دیا کہ خواہ رپورٹ کرنے والا افسر انگریز ہے لیکن جس شخص نے میرے پاس سفارش کی ہے وہ کبھی ایک غلط واقعہ کی تائید نہیں کر سکتا اس لئے اُس کی بات درست ہے اور محکمانہ رپورٹ غلط۔پس سچائی کو اپنا شیوہ بناؤ۔کیونکہ سچائی دلوں کو موہ لیتی ہے اور دوسرے کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتی۔میں پھر قادیان کے نوجوانوں کو خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ وہ شعائر اسلام کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔خصوصا سے میرا مطلب یہ ہے کہ قادیان جماعت کا مرکز ہے۔اس لئے مرکز کے نو جوانوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ورنہ میرا یہ مطلب نہیں کہ لاہور والے یا دوسری جگہوں والے بے شک شعار اسلام کی پابندی نہ کریں اور وہ اپنی داڑھیاں بیشک منڈواتے رہیں۔بلکہ سب کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اچھا نمونہ پیش کریں۔اگر تم داڑھیاں رکھو گے تو یہ دنیا میں اسلام کا رعب قائم ہونا شروع ہو جائیگا۔اور لوگ خیال کریں گے کہ اس دہریت کی جی زندگی میں ، اس فلسفیانہ فضا میں، اس عیاشی اور نزاکت کی صدی میں جبکہ دنیا داڑھیوں سے جنسی اور ٹھٹھا کر رہی ہے یہ لوگ اسلام کے اس حکم پر عمل کرتے ہیں اور کسی کی رائے کا خیال نہیں ہے کرتے۔واقعی ان کے دلوں میں اسلام کا درد ہے۔اور یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔