خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 56

خطبات محمود 56 سال 1947ء بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ بادشاہ سلامت! ابھی تو آدھے خانے بھی نہیں بھرے کہ خزانے میں سے تمام روپے اور تمام ہیرے اور تمام جواہر اور تمام موتی ختم ہو چکے ہیں۔پھر وہ موجد خود بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے کہا میں آپ کو بتا نا چاہتا تھا کہ بعض دفعہ بظاہر ایک چیز بہت چھوٹی معلوم ہوتی ہے لیکن حساب لگانے سے وہ غیر معمولی ثابت ہوتی ہے۔آپ مجھے کہتے تھے کہ تم پاگل ہو گئے ہو کہ ہم سے کوڑیاں مانگتے ہو۔لیکن اب دیکھئے کہ آپ کا خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ابھی آدھے خانے بھرے گئے ہیں۔میں بے وقوف نہیں تھا بلکہ آپ کو ایک سبق دینا چاہتا تھا۔اب آپ کی مرضی ہے آپ جو انعام پسند کریں مجھے دے دیں۔حقیقت یہ ہے کہ بظاہر ایسے حساب بہت معمولی نظر آتے ہیں لیکن حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔میں نے ان کوڑیوں کا حساب لگایا تھا۔شطر نج کے چونسٹھ خانے ہوتے ہیں۔ان چونسٹھ خانوں میں مجھے یاد پڑتا ہے دو کھرب روپے کے قریب کوڑیوں کے حساب سے آتے تھے اور ابھی میں نے کسور چھوڑ دی تھیں۔اسی طرح تم یہ حساب لگاؤ کہ اگر ہر شخص سال میں ایک احمدی بنائے تو شطرنج کے خانوں کی طرح ہیں سال سے کم عرصہ میں تمام دنیا احمدی ہو سکتی ہے۔اور ایک احمدی بنانا کوئی مشکل بات نہیں صرف توجہ کی ضرورت ہے۔اگر ہم فرض کریں کہ اس وقت ایک لاکھ احمدی بالغ ہیں۔یہ ایک لاکھ آگے ایک لاکھ احمدی بنائیں تو دوسرے سال دو لاکھ ہو جائیں گے۔تیسرے سال چار لاکھ ہو جائیں گے۔چوتھے سال آٹھ لاکھ ہو جائیں گے۔پانچویں سال سولہ لاکھ ہو جائیں گے۔چھٹے سال بہتیں لاکھ ہو جائیں گے۔ساتویں سال چونسٹھ لاکھ ہو جائیں گے۔آٹھویں سال ہے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ہو جائیں گے۔نویں سال دو کروڑ چھپن لاکھ ہو جائیں گے۔دسویں سال نچ کروڑ بارہ لاکھ ہو جائیں گے۔لاکھ کی کسر کو چھوڑ دو اور پورا پانچ کروڑ ہی سمجھ لو۔گیارھویں سال دس کروڑ ہو جائیں گے۔بارھویں سال بیس کروڑ ہو جائیں گے۔تیرھویں سال چالیس کروڑ ہو جائیں گے۔چودھویں سال اسی کروڑ ہو جائیں گے۔پندرھویں سال ایک ارب اور ساٹھ کروڑ ہو جائیں گے اور سولہویں سال تین ارب اور بیس کروڑ ہو جائیں گے۔اور تمام دنیا کی آبادی دو ارب ای ہے۔گویا تمام دنیا سولہ سال میں احمدی ہو سکتی ہے۔یہ کتنی چھوٹی سی چیز ہے۔لیکن اس کا نتیجہ کیسا