خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 421

خطبات محمود 421 سال 1947ء جب تک اسے بخار میں استعمال نہ کیا جائے۔کونین کھانے سے بے شک چڑھا ہوا بخار اتر جاتا ہے یا چڑھنے والا بخار نہیں چڑھتا۔لیکن اگر کوئی کو نین تو نہ کھائے اور دن بھر کو نین کو نین کہتا رہے اور سمجھے کہ جب میں کونین کے وجود کو تسلیم کرتا ہوں تو میرے لئے اتنا ہی کافی ہے اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔کو نین کو مان لینا اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔فائدہ تبھی ہو گا جب وہ کو نین کو استعمال کرے گا۔یا گیہوں کے دانہ کو تم گیہوں کا دانہ کہتے ہو تو اس سے تمہارا پیٹ نہیں بھرے گا۔پیٹ اُسی وقت بھرے گا جب تم گیہوں کی روٹی پکا کر کھاؤ گے۔اسی طرح سلسلہ الہیہ کو سلسلہ الہیہ سمجھنا اور اس کی تعلیم پر عمل نہ کرنا بالکل لغور فضول ہوتا ہے۔بلکہ بسا اوقات عذاب الہی کو بھڑ کانے کا موجب بن جاتا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ قرآن کے پڑھنے اور پڑھانے کا اتنا رواج دے کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک شخص بھی نہ رہے جسے قرآن نہ آتا ہو۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک صاحب مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو باتوں باتوں میں میں نے انہیں کہا کہ قادیان کی دس فیصدی عورتیں ابھی قرآن کریم کا ترجمہ جانتی ہیں۔اس نے آگے سے جواب دیا کہ چاہیئے تو یہ کہ سو فیصدی عورتیں قرآن کریم کا ترجمہ جانتی ہوں۔اب اس کی بات بالکل صحیح تھی۔میں دوسروں کی نسبت بے شک کہہ سکتا ہوں کہ ہماری جماعت میں قرآن کریم کا علم زیادہ ہے۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص خدا تعالیٰ کا پیدا کردہ اور اس کے سامنے جواب دہ ہے اور ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کو پڑھے اور اس پر عمل کرے۔پس اس کی بات معقول تھی۔لیکن میری مجبوریاں بھی میرے بس میں نہیں۔لوگوں کو عربی زبان سے کچھ واقفیت نہیں۔دین سے کوئی مس نہیں۔دینی علوم سے ان کو کوئی رغبت نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب انگریزی کے بغیر نوکری نہیں مل سکتی تو ہمیں یہی زبان سیکھنی ہے چاہیئے۔کسی اور زبان پر اپنا وقت صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ایسے حالات میں لوگوں کو مجبور کر کے قرآن پڑھانا یا عربی زبان سیکھنے کی طرف مائل کرنا یہ بڑا مشکل کام ہے اور اسی لئے ہمیں اب تک سو فیصدی کامیابی نہیں ہوئی۔مگر بہر حال یہ جواب قائم مقام صداقت کا نہیں ہو سکتا۔میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک بھو کے کو کھلانے کے لئے چونکہ میرے پاس صرف دس دانے تھے اس لئے میں نے دس دانے ہی دے دئے مگر دس دانوں کے ساتھ کوئی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔