خطبات محمود (جلد 28) — Page 409
خطبات محمود 409 سال 1947ء۔کرنے کی توفیق دے جو پہلے نیک اور پاک لوگوں نے کئے۔اگر ہم اُن تکالیف کو برداشت کرتے ہیں جو پہلے لوگوں نے برداشت کیں تو ہم مومن ہیں۔اگر ہم وہی قربانیاں کرتے ہیں جو پہلے لوگوں نے کیں تو ہم مومن ہیں۔اگر ہم نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ وغیرہ کے مسائل پر اُسی طرح عمل کرتے ہیں جس طرح پہلے لوگوں نے عمل کیا تو ہم مومن ہیں۔اور اگر ہم ایسا نہیں ہے کرتے تو ہما را دعوی ایمان بالکل بے حقیقت چیز ہے۔جس طرح مصوّر بار بار اُس نظارہ کو دیکھتا ہے ہے جس کی وہ تصویر کھینچنا چاہتا ہے اور برش سے کاغذ یا کپڑے پر نشان ڈالتا چلا جاتا ہے اس طرح اگر تم بار بار پہلے لوگوں کو دیکھو گے نہیں تو اُن کی تصویر اپنے دل پر کس طرح کھینچ سکو گے۔جب تک تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے کارناموں کو بار بار اپنے سامنے نہیں لاتے ، جب تک تم موسی" اور عیسی اور ابراہیم اور نوح کے کارناموں کو بار بار اپنے سامنے نہیں لاتے اُس وقت تک تم کس طرح اُن کی تصویر اپنے دل پر کھینچ سکتے ہو۔یہ غلط طریق ہے کہ مشکلات کے آنے پر انبیاء سابقین کا ذکر کر کے یہ کہا جائے کہ دیکھو ! خدا نے اُن سے کیا کیا اور انہیں کیسی کا میابیاں بخشیں۔سوال یہ نہیں کہ خدا نے کیا کیا؟ سوال یہ ہے کہ خدا نے کب کیا ؟ تم یہ کی تو دیکھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کو مارا مگر تم یہ نہیں دیکھتے کہ کتنے عرصہ کے بعد مارا اور کتنی تکالیف کے بعد اُن پر غلبہ حاصل کیا۔تم یہ تو دیکھتے ہو کہ موسی فلسطین پر قابض ہو گئے نے مگر تم یہ نہیں دیکھتے کہ کب قابض ہوئے۔تم یہ تو دیکھتے ہو کہ فرعون کی قوم غرق ہو گئی مگر تم یہ نہیں دیکھتے کہ کب غرق ہوئی۔تم یہ تو دیکھتے ہو کہ نوح غالب آیا مگر تم یہ نہیں دیکھتے کہ کب غالب آیا۔نوع گھر سے بے گھر ہو گیا۔وطن سے بے وطن ہو گیا۔اپنے باپ دادا کی قبروں کو بھی وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا اور پھر کہیں ایک عرصہ بعد اُسے غلبہ حاصل ہوا۔ان مثالوں کو اپنے سامنے رکھ کر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پر غور کرو اور اپنی جی کامیابی کے لئے کسی قسم کی شرط نہ لگاؤ بلکہ جس طرح پہلوں نے مصائب پر صبر سے کام لیا اسی طرح جی تم بھی مصائب پر صبر سے کام لو۔اور جس طرح پہلوں نے نیکیوں میں حصہ لیا اسی طرح تم بھی نیکیوں کی میں حصہ لو۔اس کے بغیر وہ انعام مل ہی نہیں سکتا جو صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں بیان کیا گیا ہے۔تم پہلوں کو دیکھو کہ انہوں نے کیا کیا اور کن حالات میں کیا۔اُس کے