خطبات محمود (جلد 28) — Page 402
خطبات محمود 402 سال 1947ء الہی ! مجھے سیدھا طور و طریق بتا۔اُن لوگوں کا طور و طریق جو تیرے منعم علیہ گروہ میں شامل ای ہو چکے ہیں۔گویا مومن اپنے دل پر پہلے لوگوں کی تصویر کھینچتا ہے۔مگر یہ تصویر اُسی وقت کھینچ سکتا ہے جب وہ لوگ ہر وقت اُس کی آنکھوں کے سامنے رہیں۔جب تک یہ اُن لوگوں کو اپنے سامنے رکھے گا اُن کی تصویر اپنے دل پر کھینچنے میں کامیاب رہے گا۔اور جب یہ اُن کو اپنے سامنے نہیں رکھے گا اُن کی تصویر کھینچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ جن کا انجام بخیر ہو گیا ، جو آخر تک صداقت پر قائم رہے، جنہوں نے مرتے دم تک خدا تعالیٰ کا دامن نہ چھوڑا اور جن کا نیک اور پاک ہونا یقین کے مرتبہ تک پہنچ گیا۔اُن کے نقشِ قدم پر چلنے اور اُن کی تصویر اپنے دل پر کھینچنے کی تمہیں پوری کوشش کرنی چاہیئے۔زندگی میں تو انسان کے متعلق ہر وقت خطرہ ہوسکتا ہے کہ اُس کا قدم ڈگمگا جائے اور وہ سیدھے راستہ سے منحرف ہو جائے۔آج نیک ہے تو کل مرتد ہو جائے مگر جو فوت ہو گیا اور ایمان کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جاملا وہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن گیا۔اور اس کی اتباع یقیناً انسان کی نجات اور اُس کی اخروی بہبودی کے لئے ضروری ہو گئی۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں ہمیں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب تم کسی نیک جماعت میں داخل ہو تو تم ہمیشہ یہ دعا کیا کرو کہ وہ نیک اور نیک لوگ جو پہلے گزر چکے ہیں اور فوت ہو چکے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مرتد نہیں ہوئے اور اُن کا انجام بخیر ہو گیا ہمیں اُن کے نقش قدم پر چلنے کی عملی توفیق عطا فرما تا ہمارے اندر بھی نیکی اور تقویٰ پیدا ہو اور ہم بھی تیرے قرب سے متمتع ہوں۔مگر مغضوب علیھم اور ضالین نہ بنائیں۔یعنی وہ لوگ جو گمراہ ہو گئے یا مرتد ہوکر مر گئے۔خواہ کسی وقت انہوں نے تیر اثر ب ہی کیوں نہ حاصل کیا ہوا ہو اُن جیسا بننے سے ہمیں محفوظ رکھیو۔یہ ہوسکتا ہے کہ ایک وقت انسان ولی اللہ ہو اور دوسرے وقت ارتداد کے گڑھے میں گر جائے۔کیا بلعم باعور کا واقعہ لوگوں کو معلوم نہیں۔تو رات میں لکھا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے چلے اور فلسطین کی طرف گئے تو راستہ میں ایک بادشاہت آتی تھی۔حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم نے اُس کا مقابلہ کیا اور حضرت موسیٰ" غالب آگئے۔اُس قوم نے اپنے بادشاہ سے کہا بلعم اللہ تعالیٰ کا نہایت پیارا اور صاحب الہام انسان ہے آپ اُس سے دعا کرائیں کہ اللہ تعالیٰ