خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 398

خطبات محمود 398 سال 1947ء السُّوْرَةُ الْفَاتِحَةُ لِتَدْمِير فِتْنَةِ الدَّجَّالِ۔تو ضروری نہیں تھا کہ اس سے صرف عیسائیوں کا فتنہ ہی مراد ہو۔جب قرآن ساری دنیا کے لئے ہے اور سورۂ فاتحہ قرآن کریم کا خلاصہ ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کے سارے فتنوں کا علاج سورہ فاتحہ میں موجود ہے۔اور اگر دنیا کے سارے فتنوں کا علاج سورہ فاتحہ میں موجود ہے اور اگر قرآن میں ساری بیماریوں کا علاج موجود کی ہے کیونکہ وہ تفصیل ہے اور تفصیل میں وہی بات آ سکتی ہے جو خلاصہ میں موجود ہو۔جیسے آم کے درخت میں وہ خصوصیت نہیں آ سکتی جو اس کی گٹھلی میں نہ ہو۔اسی طرح قرآن کریم میں وہ بات نہیں آسکتی جو سورہ فاتحہ میں نہ ہو۔اور اگر قرآن سب روحانی بیماریوں کا علاج ہے تو ساری روحانی بیماریوں کا علاج سورہ فاتحہ میں بھی ہے۔کیونکہ قرآن تفصیل ہے اور سورہ فاتحہ اس کا ہے۔خلاصہ ہے۔پس جب یہ کہا گیا کہ سورہ فاتحہ میں دجال کے فتنے کا رڈ ہے تو اس کے معنی در حقیقت یہ تھے کہ تمام قسم کی خرابیاں جو قومی درجہ تک پہنچ جاتی ہیں اور جن میں جھوٹ اور فریب سے کام لیا جاتا ہے اُس کا علاج سورہ فاتحہ میں موجود ہے۔کچھ دن ہوئے میں دُعا کر رہا تھا کہ متواتر یہ آیات میری زبان پر جاری ہوئیں۔اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 2۔اور یہ آیات بھی سورہ فاتحہ کی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ہمیں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ موجودہ فتنہ کا علاج ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔ہماری جماعت محتاج ہے اس بات کی کہ وہ اُن لوگوں کے راستہ پر چلے جن پر خدا تعالیٰ نے انعام نازل کیا۔ہماری مصیبتوں کا یہ علاج نہیں کہ ہم افسوس اور حسرت بھرے دل کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ہماری مصیبتوں کا یہ علاج نہیں کہ ہم رونے لگ جائیں۔ہماری مصیبتوں کا یہ علاج نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور سستی دکھا ئیں۔ہماری مصیبتوں کا یہ علاج نہیں کہ ہم دنیوی تدابیر کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیوی تدابیر بھی مصائب کو دور کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں اور ایک حد تک دنیوی تدابیر اختیار کرنی لازمی ہوتی ہیں۔مگر دنیوی تدابیر مصیبتوں کا علاج نہیں ہوتیں۔جس طرح مکان کی دیواروں پر بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔مگر وہ مکان نہیں کہلاتے۔یہی حال دنیوی تدابیر کا ہوتا ہے۔یا تم مکان بناتے ہو تو کہتے ہو اس مکان کے