خطبات محمود (جلد 28) — Page 392
خطبات محمود 392 سال 1947ء جب خدا ایک درخت لگاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ بے انتہا پھل پیدا کر دے اور پھر یہ دیکھتا ہے کہ ان پھلوں میں سے کوئی پھل بھی ضائع کرنے کے قابل نہیں تو خدا اُس کا پھل نہیں گرا تا بلکہ اُس درخت کو زیادہ موٹا اور مضبوط کر دیتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام صحابہ گالنُّجُومِ تھے اور جب ہر صحابی اس قابل تھا کہ اسے قائم رکھا ہے جائے تو خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ اس درخت کا پھل زیادہ ہو گیا ہے اس لئے اس کا کچھ کچی پھل گرا دیا جائے بلکہ خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور بڑا کر دیا۔اتنا بڑا کہ سارے پھل آپ کے درخت پر اٹکے رہے مگر پھر بھی وہ درخت ان پھلوں کے بوجھ سے نہ گرا۔گویا جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اَصْحَابِی گالنُّجُومِ میرے تمام صحابہ ستاروں کی مانند ہیں وہاں صحابہ جو گالنُّجُومِ تھے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان کے ظہور میں ایک نمایاں حصہ لیا اور اس طرح دونوں ایک دوسرے کو بڑھانے والے بن گئے۔یہی چیز اس وقت تمہارے سامنے ہے۔موسی اور عیسی کی امتیں اب واپس نہیں آسکتیں تا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا نمونہ دیکھ کر اپنے اندر اصلاح پیدا کریں لیکن تم زندہ موجود ہو۔اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی غیر نہیں تمہارے آقا اور مطاع ہیں۔اور صحابہ بھی کوئی غیر وجود نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت اور تمہارے بھائی ہیں۔اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اگر تم صحیح طور پر کوشش کرو تو تم میں سے ہر شخص أَصْحَابِی كَالنُّجُوم کا نمونہ نہ بن جائے۔مگر یہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب ہر شخص دین کو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کے لئے ہر وقت کمر بستہ و تیار رہے۔جب قربانی اور ایثار کا مادہ نہ ہو۔جب باجماعت نماز کی پابندی بھی مشکل معلوم ہو۔جب قرآن کا ترجمہ بھی وہ لوگ نہ جانتے ہوں جن کو جانا چاہئے بلکہ ” جن کو جاننا چاہیئے کا کیا سوال ہے ہر انسان کو قرآن کریم کا ترجمہ جانا چاہئے تو بتاؤ اس نمونہ کو دیکھتے ہوئے اَصْحَابِی كَالنُّجُومِ کا مصداق نہ بنے کا الزام کس پر ہوگا ؟ تم پر یا خدا پر ؟ دیکھو ! وقت جاتا ہے، موقع ہاتھ سے چُھٹ رہا ہے۔وہ جن کی عقلیں ہیں اور جو سوچنے اور سمجھنے کی قابلیت اپنے اندر رکھتے ہیں وہ چاہیں تو اب بھی اپنے اندر وہ روح پیدا کر کے جو صحابہ نے پیدا کی تھی اس مقام کو حاصل کر سکتے ہیں۔اور وہ روح جو صحابہ نے دکھائی تھی یہی تھی کہ ان میں سے ہر