خطبات محمود (جلد 28) — Page 393
خطبات محمود 393 سال 1947ء شخص نے اپنی زندگی دین کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔آج ہم کہتے ہیں کہ دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرو تو کچھ لوگ آگے آتے اور اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں اور ہم فخر کرتے ہیں کہ ہم میں سے اتنے نوجوانوں نے زندگیاں وقف کی ہیں حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے کی ساری زندگی ہی خدا تعالیٰ کے لئے وقف ہوتی ہے۔اور اس میں کسی استثنیٰ کا سوال نہیں۔کئی ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ جب ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں تو پھر ہم میں سے ہر شخص وقف ہے کسی علیحدہ معاہدہ اور اقرار کی کیا ضرورت ہے۔مگر منہ کی بات اور ہوتی ہے اور عمل اور ہوتا ہے۔اگر انہوں نے اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کیا ہوا ہے تو وہ بتا ئیں تو سہی کہ وہ دفتروں میں وقت دینے کے بعد دین کے لئے کتنا وقت خرچ کرتے ہیں۔دفتروں کا وقت پانچ گھنٹے ہوتا ہے اور دن رات 24 گھنٹے کا ہوتا ہے۔اگر 10 گھنٹے بھی کھانے پینے سونے اور دیگر حوائج کے لئے رکھ لئے جائیں نی تب بھی 9 گھنٹے بچ جاتے ہیں۔اگر 9 گھنٹے روزانہ ہر شخص قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے اور تبلیغی کرنے اور بنی نوع انسان کی خدمت کرنے پر صرف کرے تو دنیا کیا سے کیا بن جاتی ہے، ہماری جماعت کتنی ترقی کر جاتی ہے، ہماری تربیت کی حالت کتنی مضبوط ہو جاتی ہے۔لیکن منہ سے کہنا کہ میری ساری زندگی وقف ہے اور عمل کے وقت اپنا قدم پیچھے ہٹالینا اور بہانے بنانا کون سا ایمان ہے۔یادرکھو یہ حالت بڑی خطرناک ہے۔ہر شخص جو اس حالت میں ہے اسے کیا معلوم کہ کب ذرا سی آندھی بھی اسے توڑ کر پھینک دے۔اور اس نے پھل تو کیا بننا ہے چٹنی بننے کے قابل بھی نہ رہے۔اور زیادہ سے زیادہ یہ ہو کہ گند اور میلے کے ڈھیر پر اُس کو ڈال دیا جائے۔یوں تو پاخانہ بھی کام آتا ہے۔چنانچہ جتنی کھاد ہوتی ہے سب پاخانہ سے ہی تیار ہوتی ہے۔لیکن بعض قسم پاخانوں کی کھاد کے بھی قابل نہیں ہوتی۔بیل کا پاخانہ کھاد کے قابل ہوتا ہے ، گائے کا پاخانہ کھاد کے قابل ہوتا ہے، گھوڑے کا پاخانہ بھی ایک حد تک کھاد کے قابل ہوتا ہے سب سے کم مگر کسی حد تک مرغی کا پاخانہ بھی کھاد کے قابل ہوتا ہے۔لیکن انسان کے پاخانہ کی یہ خصوصیت ہے کہ جس سبزہ پر وہ پاخانہ ڈال دیا جائے جل جاتا ہے۔شاید اسی لی طرح خدا تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر انسان بگڑے تو پھر وہ کسی کام کے قابل نہیں رہتا۔بگڑا ہے ہوا بیل ذبح کر کے کھا لیا جاتا ہے، بانجھ گائے اور بانجھ بھینس کم سے کم قربانی کے قابل سمجھی جاتی ہے۔مگر بریکار انسان کسی کام نہیں آسکتا۔سو اُس دن سے ڈرو جب خدا کے فرشتوں کا تمہارے متعلق یہ فیصلہ ہو کہ