خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 370

خطبات محمود 370 سال 1947ء اس کی تجارت کے بگڑ جانے کے متعلق بھی ہو سکتی ہے۔اس کے بیٹے کے اچھا ہو جانے کے متعلق بھی ہوسکتی ہے۔اس کے بیٹے کے مرجانے کے متعلق بھی ہوسکتی ہے۔اس کی شادی ہو جانے کے متعلق بھی ہوسکتی ہے۔اس کی شادی رُک جانے کے متعلق بھی ہوسکتی ہے۔اس کی بیوی کے مر جانے کے متعلق بھی ہوسکتی ہے اور اس کے لمبی دیر تک زندہ رہنے کے متعلق بھی ہوسکتی ہے۔غرض دنیا کے اربوں ارب افعال میں سے ہر فعل کے متعلق تقدیر ہوسکتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان تینوں مقامات میں جہاں بھی تقدیر کا ذکر کیا ہے ساتھ ہی نظام عالم کا ذکر کیا ہے۔اور بتایا ہے کہ ہمارا ایک خاص قانون دنیا میں جاری ہے۔اس قانون کا ذکر کرنے کے بعد ذَالِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ کے الفاظ استعمال کرنا بتاتا ہے کہ گو یہاں عام الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔مگر اس کے معنی عام نہیں بلکہ اس جگہ وہی معنی مراد ہیں جو سیاق و سباق کو ملحوظ رکھنے کے نتیجہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ایک خاص ترتیب مضامین میں ان الفاظ کا بیان کرنا اور متعدد مقامات پر ایک ہی مضمون کے بعد ان الفاظ کا ذکر کرنا بتاتا ہے کہ قرآن کریم کے نازل کرنے والے خدا نے ہر لفظ کمال حکمت کے ساتھ نازل کیا ہے۔اور جس مقام پر بھی کوئی آیت رکھی گئی ہے وہ مقام اپنے مضامین کی ترتیب کے لحاظ سے اُسی آیت کا متقاضی تھا۔اگر اس آیت کو الگ کر دیا جائے تو تمام تر تیب بگڑ جائے اور قرآنی حسن جاتا رہے۔قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ کوئی آیت پہلے سال نازل ہوئی ، کوئی دوسرے سال نازل ہوئی کوئی تیسرے سال نازل ہوئی، کوئی چوتھے سال نازل ہوئی۔پھر بھی ان آیات کو جب اکٹھا دیکھا جاتا ہے تو ہر آیت کا پہلی آیات کے ساتھ اور ہر سورۃ کا پہلی سورتوں کے ساتھ ایک گہرا ربط اور تعلق معلوم ہوتا ہے۔یہ مقدرت یقیناً کسی انسان کو حاصل نہیں اور نہ کوئی انسان اپنی قوتِ حافظہ کی مدد سے ایسا کر سکتا ہے۔ہم تو دیکھتے ہیں وہ لوگ جن کو سارا قرآن کریم حفظ ہوتا ہے اور جو دن رات قرآن کریم پڑھتے رہتے ہیں اُن کی بھی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے حافظ صاحب ! ذرا فلاں آیت تو پڑھ کر سنائیں تو وہ ایک دور کوع پہلے سے تلاوت شروع کر دیتے ہیں۔اور جب انہیں کہا ہے جائے کہ یہ کیا ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ میں شروع سے پڑھتا ہوں درمیان میں وہ آیت بھی آجائیگی۔یوں اکیلے کسی آیت کا پڑھنا مشکل ہے۔حالانکہ اُن کی ساری عمر قرآن پڑھنے اور پڑھانے میں