خطبات محمود (جلد 28) — Page 301
خطبات محمود 301 سال 1947ء لوگ مخلص تھے اور اتفاقی حادثہ سے سراسیمہ ہو کر بھاگے تھے آپ نے فرما یاتم انہیں فرار نہ کہو بلکہ گزار کہو۔یعنی گو یہ واپس آئے ہیں مگر اس لئے آئے ہیں کہ پھر دشمن پر حملہ کریں گے اور اُسے شکست دیں گے۔گزار کے معنی ہوتے ہیں پیچھے آ کر پھر حملہ کرنے والا۔اور فرار کے معنی ہوتے ہیں بھگوڑا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم انہیں فَرَّارُونَ نہ کہو بلکہ كَرَّارُونَ کہوں۔یعنی الی یہ لوگ پیچھے تو بیشک ہٹے ہیں مگر اس لئے کہ دوبارہ دشمن پر حملہ کریں اور اُسے شکست دیں۔پس اپنی نیتوں اور ارادوں سے اپنے آپ کو فرار نہ بناؤ بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرح گزار بنو۔اتفاقی حادثہ کے ماتحت بے شک بعض دفعہ عارضی طور پر قدم اکھڑ جاتے ہیں مگر وہ قدموں کا اُکھڑنا بالکل اور چیز ہوتی ہے اور بھا گنا اور چیز ہوتی ہے۔حنین کے موقع پر جب دشمن نے تیروں کی بوچھاڑ کی تو چونکہ مکہ کے نو مسلم آگے آگے تھے۔وہ بھاگ پڑے اور اُن کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کی سواریاں بھی بے قابو ہو گئیں اور ی سوائے چند صحابہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد اور کوئی نہ رہا۔بلکہ ایک موقع تو ایسا ہے آیا کہ صرف ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گیا۔اُس وقت مکہ کا ایک نیا مسلمان جو ابھی دل میں کا فر تھا اور جو محض اس لئے مسلمان ہو کر حسنین کی جنگ میں شامل ہوا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہیں اکیلے مل گئے تو میں آپ پر حملہ کر دوں گا۔وہ آپ کی طرف بڑھا۔وہ خود کہتا ہے جب میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں اکیلا پایا تو میں نے کہا یہ موقع ہے جس میں میں کامیاب طور پر آپ پر وار کر سکتا ہوں۔آپ چاروں طرف سے دشمن سے گھرے ہوئے ہیں اور صحابہ کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں۔اس سے زیادہ بہتر موقع اور کونسا ہو گا۔میں نے تلوار کھینچی اور آپ کے قریب ہونا شروع کیا۔جب میں قریب پہنچا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگے آ جاؤ۔وہ کہتا ہے اس آواز میں کچھ ایسا اثر تھا کہ میں نے اُس وقت سمجھا۔اس وقت مجھے آگے ہی چلنا چاہیئے۔میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے میرے دل کے مقام پر اپنا ہاتھ پھیرا اور فرمایا خدایا ! اس کے دل سے تمام بغض اور کینہ نکال دے اور اس کو سیانی ایمان بخش۔وہ کہتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ پھیرا۔اور یہ دعا کی کہ خدایا! اس کے دل سے تمام کینہ اور بغض نکال دے اور اسے سچا ایمان بخش۔تو مجھے