خطبات محمود (جلد 28) — Page 283
خطبات محمود 283 سال 1947ء ہوئے کاموں کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی جتنی ہوا کے ایک جھونکے کو دی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے کام تو خدا تعالیٰ نے ہی کرنے ہیں اور وہ یقیناً ہو کر رہیں گے۔تم اگر ان کا موں کو سرانجام نہیں دو گے تو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو کھڑا کر دے گا۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ تو اُن لوگوں کو متنبہہ کر دے۔اگر یہ کام کریں گے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر دیا جائے گا۔اور اگر کام نہیں کرینگے تو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو پنے دین کی خدمت کے لئے کھڑا کر دے گا۔میں نے بھی اس خیال سے کہ تم ثواب حاصل کرنے سے محروم نہ رہ جاؤ تمہیں متنبہ کر دیا ہے۔یاد رکھو نہ تمہاری اور نہ کسی اور کی خدا تعالیٰ کو کوئی ضرورت ہے۔اس قسم کی مستیوں کے باوجود بھی خدا تعالیٰ کا سلسلہ یقیناً جیتے گا۔لیکن وہ لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوں گے اور نہ انہیں ایمان کے کسی ادنیٰ سے ادنی مقام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا حق ہو گا۔صرف چار پانچ آدمی لاہور کے ایسے ہیں جنہوں نے کام کیا مگر باقیوں نے پوچھا تک نہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا ان کی خدمات کی سلسلہ کو ضرورت ہے یا نہیں ؟ روزانہ جالندھر، ہوشیار پور اور دوسرے علاقوں کے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہمیں اُن کے لئے مختلف کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر یہ نظر نہیں آتا کہ کسی سے کام لیں۔کیونکہ یہاں کی جماعت نے اپنے فرائض کو ادا کرنے میں خطرناک غفلت اور کوتاہی سے کام لیا ہے۔پس یہ دو نمونے ایسے ہیں جو نہایت ہی تاریک پہلو لا ہور کی جماعت کا پیش کر رہے ہیں۔حفاظت مرکز کے کام میں اب تک بھی پورے وعدے نہیں لکھوائے گئے اور وصولی تو بہت ہی کم ہوئی ہے۔حالانکہ ہم نے اُس چیز کو کرنا ہی کیا ہے جو وقت کے بعد میسر آئے۔اب تک ہم نے امانتوں سے روپیہ لے کر کام چلایا ہے ورنہ اگر آپ لوگوں جیسے نادہند جماعت میں ہوتے اور امانتوں کا سلسلہ جاری نہ ہوتا تو جہاں تک دنیاوی تدابیر کا تعلق ہے اب تک قادیان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہوتی۔( خدا نخواستہ۔رَفَعَ اللهُ بُنْيَانَهُ وَ اَعَزَّ شَأنَهُ ) یہ خدا کا فضل ہے کہ اُس نے اس وقت تک قادیان کو بچائے رکھا ہے ورنہ آپ لوگوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں لی رکھی۔ننانوے فیصدی آپ لوگوں نے پورا زور لگایا کہ وہ تباہ ہومگر خدا نے اپنے فضل سے سامان مہیا کیا ہوا تھا۔امانتیں پڑی تھیں جن سے کام چل گیا۔یہ تو تمہارا حال ہے۔مگر ایمان کے دعوے