خطبات محمود (جلد 28) — Page 264
خطبات محمود 264 سال 1947ء رہنے کے کم حقوق کا مستحق سمجھا جاتا تھا۔یہ اتنا بڑا تغیر ہے کہ دل اس کا اندازہ لگانے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔اور اگر یہ تغیر اپنے ساتھ کچھ اور تلخ باتیں نہ رکھتا تو ہر ہندوستانی کو خواہ وہ انڈیا کا باشندہ ہو یا پاکستان کا خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جانا چاہئے تھا اور اُس کا دل خوشی سے لبریز ہو جانا چاہیئے تھا۔لیکن اس آزادی کے ساتھ ساتھ خونریزی اور ظلم کے آثار بھی نظر آتے ہیں۔خصوصاً اُن علاقوں میں جن کے ہم باشندے ہیں۔وسطی پنجاب اس وقت لڑائی جھگڑے اور فساد کا مرکز بنا ہوا ہے اور ان فسادات کے متعلق روزانہ جو خبر میں آ رہی ہیں اُن سے معلوم ہو ہے کہ سینکڑوں آدمی روزانہ موت کے گھاٹ اُتارے جارہے ہیں۔اور ایک بڑی جنگ میں جتنے آدمی روزانہ مارے جاتے تھے اُتنے آجکل اس چھوٹے سے علاقہ میں قتل ہو رہے ہیں۔اور ایک بھائی دوسرے بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔پس ان حالات کے ماتحت جیسے عید کے دن اُس عورت کے دل میں خوشی نہیں ہو سکتی جس کے اکلوتے بچے کی لاش اُس کے گھر میں پڑی ہوئی ہو، اور جیسے کسی قومی فتح کے دن اُن لوگوں کے دل فتح کی خوشی میں شامل نہیں ہو سکتے جن کی نسل فتح ہی سے پیشتر اُس لڑائی میں ماری گئی ہو۔اِسی طرح آج ہندوستان کا سمجھدار طبقہ باوجود خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے اپنے دل میں پوری طرح خوش نہیں ہوسکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے تو ملک کو آزاد کر دیا لیکن ملک نے اپنے آپ کو آزاد نہیں کیا۔یہ دو حکومتیں جو آج قائم ہوئی ہیں ہمیں ان دونوں سے ہی تعلق ہے۔کیونکہ مذہبی جماعتیں کسی ایک ملک یا حکومت سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ہماری جماعت کے افراد پاکستان میں بھی ہیں اور ہماری جماعت کے افراد انڈیا میں بھی ہیں۔بلکہ اس سے بھی پہلے ہماری جماعت کے افراد افغانستان میں بھی پائے جاتے تھے اور ایران میں بھی۔عراق میں بھی پائے جاتے تھے اور شام میں بھی۔مصر میں پائے جاتے تھے اور سوڈان میں بھی۔ملایا میں پائے جاتے تھے اور برما میں بھی۔جاوا میں بھی پائے جاتے تھے اور سماٹرا میں بھی۔انگلستان میں بھی پائے جاتے تھے اور یونائیٹڈ سٹیٹس میں بھی۔مشرقی افریقہ میں بھی پائے جاتے تھے اور مغربی افریقہ میں بھی۔اور یہ تمام ممالک ایسے ہیں جو یا تو ہندوستان سے انتظامی طور پر الگ تھے یا گورنمنٹ برطانیہ سے ہی الگ تھے اور خود مختار اور آزاد تھے۔پس یہ کوئی نیا تغییر ہماری جماعت کے لئے نہیں ہے۔کیونکہ پہلے بھی ہماری جماعت کے افراد مختلف ممالک میں