خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 205

خطبات محمود 205 سال 1947ء کرسکتا۔ہماری جماعت کے لوگوں میں ایڈونچرس (ADVENTUROUS ) روح ہونی چاہئیے یعنی ہمت اور خطرہ والے کاموں کی خواہش ہونی چاہیئے کیونکہ جس قوم میں مافوق العادت کام کرنے کی روح پیدا نہیں ہوتی وہ ترقی نہیں کرسکتی۔انگریزوں پر دوسری اقوام حسد کرتی ہیں کہ انہوں نے ہندوستان اور افریقہ کے ممالک پر قبضہ کر رکھا ہے۔لیکن آج سے تین چار سو سال قبل جبکہ نہ ریل تھی اور نہ ڈاک و تار کا کوئی انتظام تھا انگریز نوجوان اپنے گھروں سے نکلے اور انہوں نے غیر ملکوں میں جا کر ان کو آباد کیا، وہاں کے باشندوں کو تہذیب سکھائی۔جن لوگوں نے یہ تکلیف اٹھائی وہی اس قابل تھے کہ اُن علاقوں پر حکومت کرتے۔لیکن وہ لوگ جو اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہے اُن کو دوسری اقوام پر حکومت کرنے کا کیا حق ہے؟ ہماری جماعت بھی اگر ترقی کرنا چاہتی ہے تو اُسے مافوق العادت کاموں کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔اُس کے افراد میں سفروں کا شوق ہونا چاہیئے۔غیر جماعت میں جانے کا شوق ہونا چاہیئے اور نئے نئے علوم اور نئے نئے پیشے سیکھنے کا شوق ہونا چاہئے۔میں جب فلسطین گیا تھا اُس وقت یہودیوں کی آبادی دس فیصدی تھی اور عیسائیوں کی آبادی بھی دس فیصدی تھی اور مسلمانوں کی آبادی اسی فیصدی تھی۔لیکن اسٹیشنوں پر میں نے دیکھا کہ سفر کرنے والوں میں اسی فیصدی یہودی تھے اور ہمیں فیصدی دوسری اقوام۔اُس وقت ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ اس قوم میں ترقی کی امنگ شدت کے ساتھ پیدا ہو رہی ہے اور اس کے پھیلنے کے آثار نمایاں نظر آرہے ہیں۔کہتے ہیں ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ہماری جماعت بھی ترقی کر سکتی ہے جب اس میں مافوق العادت کام کرنے کی روح پیدا ہو جائے۔ہم جماعت کے باہر نکلنے کے لئے مختلف ذرائع پیدا کر رہے ہیں اور ہندوستان میں اور ہندوستان سے باہر بعض جگہ زمینوں کا انتظام کر رہے ہیں وہاں زمیندار پیشہ لوگوں کو بسایا جائے گا۔بعض زمینیں ہم نے قیمتاً خریدی ہیں اور بعض ہمیں مفت ملی ہیں۔لیکن یہ کام تبھی چل سکتے ہیں جب جماعت کے زمیندار ہمارے ساتھ پورے طور پر تعاون کریں اور اپنی زندگیاں وقف کر کے سلسلہ کی مضبوطی کا موجب بنیں۔جو شخص اپنی زندگی پیش کر دیتا ہے وہ محنت کے ساتھ کام کرتا ہے اور وہ خود بھی کامیاب ہوتا ہے اور جماعت کی کامیابی وہ پڑھے ہوئے تھے اس لئے وہ مبلغین بن گئے۔لا اصل میں اسی طرح ہے۔