خطبات محمود (جلد 28) — Page 174
خطبات محمود 174 سال 1947ء میں شامل ہونے کے متعلق اپنے سینوں میں انشراح نہ پاتے ہوں۔مگر اُن کے لئے بھی ہم نے رستہ کھول دیا ہے کہ وہ ایک ماہ کی نصف تنخواہ یا اپنی جائیداد کا 1/2 فیصدی دے دیں۔لیکن چونکہ ایسے آدمی بھی ہو سکتے ہیں جو ایک ماہ کی نصف آمد یا جائیداد کا 1/2 فیصدی بھی نہ دے سکیں۔یا وہ سمجھتے ہوں کہ وہ نہیں دے سکتے تو ایسے لوگوں کے لئے یہ راستہ ہے کہ وہ اپنی معذرت دفتر بیت المال میں بھیج کر ناظر صاحب بیت المال سے اپنے آپ کو منتفی کرا لیں تب بھی وہ الزام سے بچ جائیں گے۔اور اگر ناظر صاحب بیت المال اُن کو مستثنیٰ کر دیں گے تو وہ اس سزا کہ آئندہ سلسلہ کے ہنگامی کاموں میں انہیں شامل نہ کیا جائے“ سے محفوظ ہو جائیں گے۔لیکن ایسے لوگوں کا بالکل خاموش رہنا اور جماعت کے ساتھ تعاون نہ کرنا اُس معیار ایمان سے بہت ادنی ہے جس کا سلام کی طرف سے ادنیٰ سے ادنیٰ معیار کے ہر مومن سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔مجھے حالات سے اتنی کم واقفیت ہے کہ اب تک میں یہ بھی نہیں جانتا اور نہ ہی دفتر بیت المال والوں نے مجھے اطلاع بہم پہنچائی ہے کہ قادیان کے ہر محلہ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے یا نہیں۔دور دور کی جماعتوں کے متعلق تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُن کی طرف سے وعدوں کے پہنچنے میں دیر ہوگئی ہے مگر قادیان کی جماعتوں کے متعلق اس قسم کے کسی امکان کی گنجائش نہیں۔اوروں کو تو جانے دو مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے کارکنوں سے بھی وعدے لئے گئے ہیں یا نہیں۔جو رپورٹیں میرے پاس آئی ہیں اُن سے میں سمجھتا ہوں کہ قادیان کی جماعت سے بھی پوری طرح وعدہ نہیں لیا گیا۔کیونکہ اگر سب لوگوں کے وعدے شامل ہوتے تو جتنے وعدوں کی اطلاعیں اِس وقت تک مجھے مل چکی ہیں اُن سے بہت زیادہ تعداد ہوتی۔جب قادیان کے لوگوں سے بھی وعدہ لینے کا انتظام پوری طرح نہیں کیا گیا تو اسی پر باہر کی جماعتوں کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔پس میں دوستوں کو ایک دفعہ پھر یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ 31 مئی تک ان کے وعدے آ سکتے ہیں۔جو لوگ نادہند ہیں اُن کے نام بھی آنے چاہئیں۔اور جولوگ چندہ دینے والے ہیں اُن کی میں نے لسٹیں منگوا کر بعد خطبہ دیکھی ہیں قادیان کے چندہ کا نصف ابھی آیا ہے اور کارکنان انجمن کا نصف سے بھی کم۔لیکن اب ناظر صاحب بیت المال نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد وعدوں کی لسٹوں کو پورا کریں گے۔