خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 161

خطبات محمود 161 سال 1947ء سے بہت اچھی فضا پیدا ہو رہی ہے۔جیسا کہ ابھی میں نے آپ لوگوں کے سامنے ایک عیسائی کی رائے بیان کی ہے۔وہ کہتا ہے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم ان علاقوں میں یونہی اپنا روپیہ عیسائیت کی تبلیغ کے لئے ضائع نہ کرو ، آخر تمہیں شکست ہی ہو گی۔اس لئے بہتر ہے کہ تم جماعت می احمدیہ کے لئے یہ میدان چھوڑ دو کیونکہ آخر جیت تو انہی کی ہوگی۔یہ شہادت کوئی معمولی شہادت نہیں۔اس شہادت کے سننے کے بعد ہماری آنکھیں اپنے مشنوں کی طرف زیادہ توجہ کے ساتھ مرکوز ہو جانی چاہئیں۔اور ہمیں اُن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہیئے۔موجودہ نتائج بے شک ایسے عظیم الشان نظر نہ آتے ہوں لیکن موافق ہوائیں چل پڑی ہیں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جلد یا بدیر چاہے ایک سال میں ، چاہے دس سال میں لیکن ہماری زندگیوں میں ہی اور ہم میں سے بہت زندہ ہوں گے کہ وہ دیکھیں گے کہ ملکوں کے ملک احمدیت میں داخل ہوں گے۔اور وہ سب احمدیت کے علمبردار بن کر یہ گواہی دیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے وہ سب سچے ہیں۔پس ان دنوں کے لانے کے لئے جلد جلد قدم اٹھاؤ تا کہ یہ نظارے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو۔جن جماعتوں نے ابھی تک اپنے وعدے نہیں بھجوائے اُن کو بہت جلد اپنے وعدے بھجوا دینے چاہئیں اور جن کے وعدے آچکے ہیں اُن کو ادا کرنے کی فکر کرنی چاہیئے۔ہمت کرو اور اس وجھ کو نہایت بہادری کے ساتھ اُٹھاؤ جیسا کہ مومن کے شایان شان ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ وصیت کے متعلق میں نے جو تحریک کی تھی اس کی طرف بھی جماعت نے توجہ کی ہے اور درجنوں خطوط میرے پاس آچکے ہیں۔بہت سے افراد نے اپنی وصیتیں بڑھائی ہیں اور بہت سے افراد نے نئی وصیتیں کی ہیں۔ایک جماعت کی طرف سے آج ہی چٹھی آئی ہے انہوں نے ایک مکمل لسٹ بھجوائی ہے۔اس وقت اُس جماعت کا نام یاد نہیں رہا وہاں دس بارہ افراد نے نئی وصیتیں کی ہیں اور دو تین نے اپنی وصیتیں بڑھا دی ہیں۔باقی جماعتوں کو بھی اس تحریک کو اپنے ہاں پورے طور پر چلانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اصل بات یہ ہے کہ اگر مومن قربانی کرنے کا ارادہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے توفیق عطا فرما دیتا ہے اور اس کے ارادہ کو پورا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل میں لچک پیدا کی ہے۔جب مومن اپنے ایمان کو بڑھا کر