خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 7

خطبات محمود 7 سال 1947ء رہا اس لئے میرا کام کرنا بے فائدہ ہے۔یہی حال ان لوگوں کا ہے وہ وعدہ تو کرتے ہیں لیکن ہر ماہ جی کہہ دیتے ہیں کہ اچھا اس ماہ میں تو میں فلاں کام کی وجہ سے نہیں جاسکتا اور اگلے ماہ چلا جاؤں گا۔مجھے ایسے لوگوں کے متعلق ایک اور مثال یاد آ گئی۔کہتے ہیں کسی پٹھان نے کچھ خربوزے خریدے۔افغانستان کے خربوزے تو بہت میٹھے ہوتے ہیں اور ہندوستان کے خربوزے اتنے میٹھے نہیں ہوتے۔خریدنے کے بعد اُس نے کچھ خربوزے تو کھالئے اور باقی پر غصہ کی وجہ سے پیشاب کر کے چلا گیا کہ یہ ایسا گندہ خربوزہ ہے کہ اس پر پیشاب کرنا چاہیئے۔ان پر پیشا کرنے کے بعد اپنے کام میں لگ گیا۔کام کرنے کی وجہ سے ورزش ہوئی اور پہلا کھایا ہوا ہضم ہو گیا اور وہ کسی چھوڑ کر خربوزوں کی طرف آیا اور ایک دو چکر کاٹ کر پھر واپس جا کر کام کرنے لگا کہ جن خربوزوں پر میں نے پیشاب کیا ہے اُن کو کیسے کھاؤں۔کچھ دیر کسی چلانے کے بعد پھر شدید بھوک لگی۔آخر کسی رکھ کر خربوزوں کی طرف آیا اور ایک خربوزہ جو ایک طرف پڑا ہوا تھا تہی اُسے اٹھا لیا اور کہا کہ اس کے متعلق تو مجھے یقین ہے کہ اس پر پیشاب نہیں پڑا اُسے چیر پھاڑ کر کھا لیا اور پھر کام میں لگ گیا۔کچھ دیر کے بعد پھر سخت بھوک لگی پھر خربوزوں کے اردگرد چکر کاٹا اور پھر ایک خربوزہ اٹھا لیا کہ اس پر تو یقیناً پیشاب نہیں پڑا اور اُسے بھی کھا لیا۔اسی طرح ہر دفعہ ی جب اُسے بھوک لگتی تو ایک خربوزہ اٹھالیتا اور کھا لیتا۔آخر ایک ہی خربوزہ رہ گیا۔جب ایک رہ گیا تو کہنے لگا کہ خربوزوں پر پیشاب تو کیا تھا آخر کسی نہ کسی پر تو ضرور پڑا ہو گا۔اب اسے کیسے کھا لوں۔پھر خود ہی کہنے لگا۔خو! ہم بھی کتنا بے وقوف ہے جس پر ہم نے پیشاب کیا تھا وہ تو ہم نے کھا لیا ہے اور جس پر نہیں کیا وہ چھوڑ دیا ہے۔چنانچہ اُسے بھی اٹھا کر کھا لیا۔یہی حال ایسے لوگوں کا ہے۔نومبر کا مہینہ آیا تو کہہ دیا ہم دسمبر میں جائیں گے۔دسمبر کا مہینہ آیا تو کہہ دیا جی ابھی نہیں جنوری میں جائیں گے۔جب جنوری کا مہینہ آیا تو کہہ دیا جی نہیں ہم فروری میں جائیں گے۔فروری کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں گے جی نہیں ہم مارچ میں جائیں گے۔مارچ کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں گے۔ہم اپریل میں جائیں گے۔اپریل کا مہینہ آئیگا تو کہہ دیں گے ہم مئی میں جائیں گے۔مئی کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں گے ہم جون میں جائیں گے۔جون کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں ای گے ہم جولائی میں جائیں گے۔جولائی کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں گے ہم اگست میں جائیں گے۔