خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 6

خطبات محمود 6 سال 1947ء میں نہیں اگلے مہینہ میں جائیں گے۔جب اگلے مہینہ میں جانے کے لئے کہتے تو وہ کہتے کہ اس ماہ میں ہمیں کچھ کام ہے اگلے ماہ میں ضرور چلے جائیں گے۔ہم نے اکتوبر سے یہ تحریک شروع کی تھی۔جب ہم نے اکتوبر میں جانے کے لئے کہا تو نومبر کا وعدہ کیا گیا اور جب نومبر میں جانے کے لئے کہا تو دسمبر میں جانے کا وعدہ کیا۔جب دسمبر میں جانے کے لئے کہا تو جواب دیا گیا کہ اس وقت کچھ ضروری کام ہیں اگلے مہینہ میں دیکھا جائے گا۔میرا خیال ہے کہ اسی طرح باقی مہینے بھی گزر جائیں گے۔ان لوگوں کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو دل سے بزدل تھا لیکن اپنے آپ کو بہادر ظاہر کرنے کے لئے اسے شیر گدوانے کا شوق آیا۔اُس زمانہ میں نائی جراحی وغیرہ کا کام کرتے تھے۔وہ نائی کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ سرمے سے میرے کندھے پر شیر گود دو۔نائی اُس کا ا کندھا ننگا کر کے اُس پر شیر گود نے لگا۔وہ تھا اصل میں بزدل لیکن اپنے آپ کو بہا در ظاہر کرنا چاہتا تھا۔نائی نے جب کندھے پر سوئی ماری تو اُس کے منہ سے اُف نکل گئی اور نائی سے پوچھنے لگا کہ کیا گودنے لگے ہو؟ اُس نے کہا شیر کا دایاں کان گود نے لگا ہوں۔اس پر اُس نے نائی سے کہا اچھا یہ بتاؤ کہ اگر شیر کا دایاں کان کٹا ہوا ہو تو پھر بھی شیر ، شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ نائی نے کہا ہاں تھی شیر تو پھر بھی رہتا ہے۔اُس نے کہا اچھا دایاں کان چھوڑ دو اور آگے چلو۔نائی نے پھر سوئی ماری۔پھر اُسے تکلیف ہوئی۔اُس نے پھر پوچھا اچھا اب کیا گودنے لگے ہو؟ نائی نے کہا اب بایاں کان گود نے لگا ہوں۔اس پر وہ بولا۔اچھا اگر شیر کے دونوں کان کٹے ہوئے ہوں تو پھر بھی شیر، شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ نائی نے کہا ہاں شیر تو پھر بھی رہتا ہے۔اس پر وہ بولا اچھا اسے بھی چھوڑ دو اور آگے چلو۔نائی نے پھر تیسری دفعہ سوئی ماری۔پھر اُس کی چیخ نکل گئی۔پھر نائی سے ی پوچھنے لگا اب کیا گودنے لگے ہو؟ اُس نے کہا اب شیر کا دایاں پیر گود نے لگا ہوں۔اس پر اُس نے کہا اچھا اگر شیر کا دایاں پیر کٹا ہوا ہو تو پھر بھی شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ نائی نے کہا ہاں شیر تو پھر بھی رہتا ہے۔اس پر اُس نے کہا اچھا اسے بھی چھوڑ دو آگے چلو۔وہ اسی طرح کرتا چلا گیا۔کچھ دیر کے بعد نائی نے سوئی رکھ دی اور الگ ہو کر بیٹھ گیا۔اس شخص نے نائی سے پوچھا کہ کام چھوڑ کر بیٹھ کیوں گئے؟ نائی نے کہا ایک ایک چیز کے بغیر تو شیر باقی رہ جاتا تھا مگر اب شیر کا کچھ بھی باقی نہیں