خطبات محمود (جلد 28) — Page 141
خطبات محمود 141 سال 1947ء بجھانے کے لئے اس سے بھی زیادہ قربانی اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اگر کسی محلے کو آگ لگ جائے تو اس کے بجھانے کے لئے اس سے بھی زیادہ قربانی اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اگر کسی شہر کو آگ لگ جائے تو اس کے بجھانے کے لئے اس سے بھی زیادہ قربانی اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اور کبھی کبھی ملکوں میں بھی آگ لگ جاتی ہے اُس وقت اس آگ کو بجھانے کے لئے بہت زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور موجودہ وقت ایسا ہی ہے۔میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی تھی۔خطبہ کے دوسرے دن ہی میری سالی عزیزہ اپنے بھتیجے صباح الدین کو لے کر میرے پاس آئیں۔اُس کی عمر نو دس سال کی ہے۔اور مجھے بتایا کہ یہ کہتا ہے کہ میں نے خطبہ سنا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ سو فیصدی قربانی کرو۔میرے پاس جو کچھ ہے میں سو فیصدی قربانی کروں گا۔اس پر میں نے کہا کہ نہیں حضرت صاحب نے ایک فیصدی قربانی کا مطالبہ کیا ہے اس لئے تم ایک فیصدی دو۔اس نے جواب دیا کہ میرے کانوں نے تو یہی سنا ہے کہ سو فیصدی قربانی کرو۔اس لئے میں سو فیصدی ہی دوں گا۔عظمند والدین اپنے بچوں کو جمع کرنے کی عادت ڈالتے ہیں اور مٹی کی ایک چھوٹی سی ہنڈیا جس کا منہ بند ہوتا ہے لا کر دے دیتے ہیں۔اُس میں ایسا سوراخ ہوتا ہے ہے کہ اس میں روپیہ پیسہ ڈالا تو جا سکتا ہے لیکن نکالا نہیں جا سکتا سوائے اِس کے کہ اُس کو توڑا جائے۔بچے اُس میں پیسے روپے جمع کرتے رہتے ہیں۔اس کے والدین نے بھی اُسے پیسے جمع کرنے کی عادت ڈالی تھی اور ویسا ہی مٹی کا برتن لا کر دیا ہوا تھا۔میں نے یہ بات سن کر اس بچہ سے کہا کہ بہت اچھا! پھر تم وہ برتن یہاں لے آؤ۔وہ گیا اور مٹی کا برتن لے آیا جس میں اس نے کی پیسے جمع کئے ہوئے تھے۔وہ برتن اس نے دیوار کے ساتھ مار کر تو ڑا اور اس میں سے چھبیس روپے، سات آنے اور ڈیڑھ پائی نکلے۔وہ روپے میں نے دفتر والوں کو دے دیئے اور ساتھ ہی یہ ہدایت کی کہ اس جذبہ میں بڑوں اور چھوٹوں ، مردوں اور عورتوں سب کے لئے ایک سبق ہے۔اس سبق کو نمایاں رنگ میں جماعت کے سامنے پیش کیا جائے۔لیکن الفضل میں اسے نہایت بھونڈے طریق پر شائع کیا گیا ہے اور یہ لکھا گیا ہے کہ صباح الدین نے چھپیں روپے، بارہ آنے اور چھ پائی چندہ دیا ہے۔حالانکہ اگر خبر یہ تھی تو اس کے شائع کرنے میں کونسا فائدہ تھا؟ میری بیوی نے