خطبات محمود (جلد 28) — Page 134
خطبات محمود 134 (14) سال 1947ء ہر قربانی کو انعام سمجھتے ہوئے پورا کرتے جاؤ (فرمودہ 18 را پریل 1947ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پچھلے خطبہ جمعہ میں میں نے اپنی بیماری کا ذکر کیا تھا اور یہ خطرہ ظاہر کیا تھا کہ خطبہ جمعہ کے بعد عام طور پر دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔سو اسی طرح ہوا۔میں خطبہ جمعہ پڑھ کے گیا تو رات کو پیر زیادہ متورم ہو گیا اور متواتر درد شروع ہو گیا۔بیچ میں ٹائیفائڈ کے ٹیکہ کی وجہ سے یا موسم کی تانی تبدیلی کیوجہ سے دو دن بخار ہو گیا۔کل کسی قد رافاقہ محسوس ہوتا تھا مگر شام کو پاؤں میں درد زیادہ ہو گیا مگر اس تکلیف کے باوجود آج بھی میں نے مناسب سمجھا کہ میں خود خطبہ بیان کروں کیونکہ یہ دن ایسے ہیں کہ ان میں امام اور جماعت کا تعلق جلد جلد تازہ ہوتے رہنا چاہئیے تا کہ ہر ایک اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی طرف متوجہ ہو۔اسلامی جنگوں میں سے ایک جنگ اہم ترین جنگ تھی۔اور وہ ایسی جنگ تھی کہ اس کے متعلق مسلمانوں کا خیال تھا کہ اس جنگ کا فیصلہ مسلمانوں کی حالت کو بالکل تہہ و بالا کرنے والا ہوگا۔ایران کی سرحد پر ایک جگہ پر مسلمانوں نے غلطی سے دریا کو پُشت پر رکھا۔اُس وقت عرب پانی سے گھبراتے تھے۔گو بعد میں تو عرب ہی سمندر کے حکمران رہے ہیں اور سمندری سفروں کے متعلق انہوں نے بہت سی ایجادیں کی ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قبل عربوں کو سمندر سے کوئی لگاؤ نہ تھا اور وہ سمندر کے سفر سے گھبراتے تھے۔کچھ عرصے تک یہی حالت رہی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ کے بعد مسلمانوں نے سمندری سفر شروع کئے اور ان کا