خطبات محمود (جلد 28) — Page 111
خطبات محمود 111 سال 1947ء والے اپنی قربانی کو اس درجہ تک لے گئے ہیں کہ وہ موت میں ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔چنانچہ میں مسلمان ہو گیا۔پس اصل بات یہی ہے کہ جب ایمان آجاتا ہے تو انسان کو اپنی قربانیوں میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور انسان جتنی زیادہ قربانی کرتا ہے اتنی ہی زیادہ اُسے لذت محسوس ہوتی ہے اور وہ قربانی تکلیف کا باعث نہیں محسوس ہوتی بلکہ راحت کا موجب بنتی ہے۔اور جتنا جتنا انسان قربانی میں ترقی کرتا ہے اتنا ہی اُسے زیادہ لذت محسوس ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ کسی چیتے نے سخت گھر درے پتھر کو چاٹنا شروع کیا۔اس سے اُس کی زبان زخمی ہو گئی اور اس کو اپنی زبان کا خون ہی مزا دینے لگا۔اور وہ اس پتھر کو اور بھی زیادہ چاٹتا چلا گیا یہاں تک کہ زبان بالکل ختم ہو گئی۔تو جی کامل مومن کا بھی یہی حال ہوتا ہے وہ جوں جوں قربانی کرتا ہے اتنا ہی اس میں اُسے لطف اور مزہ آتا ہے۔یہاں تک کہ موت کے وقت بھی وہ یہ کہتا ہے کہ فُزَتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ کہ میری زندگی کے ختم ہونے سے مجھے میرا انعام نظر آ رہا ہے۔اگر کسی شخص کو قربانی کی زیادتی سے لطف آتا ہے تو اُسے سمجھ لینا چاہیئے کہ اس کے اندر ایمان ہے۔اور اگر قربانی کی زیادتی کی وجہ سے کسی کے دل میں انقباض پیدا ہوتا ہے تو اُسے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ متاع ایمان سے محروم ہے کیونکہ ایمان کی یہ علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں انسان قربانی کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے اور اس کے دل میں انقباض پیدا نہیں ہوتا۔“ (الفضل 15 جولا ئی 1947 ء) 1: مسلم كتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن للمؤمن (الخ) 2: اِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُوْنَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللهِ مَا لَا يَرْجُونَ (النساء: 105) 3 سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 274 مطبوعہ مصر 1936ء 4 بخاری کتاب المغازی باب غزوة الرجيع (الخ) :5 سیرت ابن ہشام جلد 3 صفحہ 196 مطبوعہ مصر 1936ء