خطبات محمود (جلد 28) — Page 102
خطبات محمود 102 11 سال 1947ء کوئی قربانی رنگ لائے بغیر نہیں رہتی جو شخص دین کے لئے قربانی کرتا ہے وہ ایسے کھیت میں بیج ڈالتا ہے جس سے اُسے کئی گنا زیادہ ملے گا (فرمودہ 28 مارچ 1947ء ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں دو ہی نقطہ نگاہ کام کر رہے ہیں۔ایک نقطہ نگاہ دنیوی ہے اور ایک نقطہ نگاہ دینی ہے۔دنیوی نقطہ نگاہ سے انسان کی تمام توجہ اور اس کے افعال کا انحصار اولا د پر ہوتا ہے اور دینی نقطہ نگاہ کا انحصار اُن نیک اعمال پر ہوتا ہے جو کہ انسان اس دنیا میں کرتا ہے اور جو مرنے کے بعد انسان کو نفع بخشتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ان دو کے سوا کوئی تیسرا نقطہ نگاہ نظر نہیں آتا۔جہاں تک قربانی کا سوال ہے وہ ہر ایک کام کے لئے کرنی پڑتی ہے۔خواہ وہ کام دینی ہو یا د نیوی ہو۔اور ہمیں دنیا میں کوئی کام ایسا نظر نہیں آتا جس کے لئے انسان کو قربانی نہ کرنی پڑتی ہو۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص دین کے لئے قربانی کرتا ہے اور کوئی شخص دنیا کے لئے قربانی کرتا ہے۔اور تو اور جو لوگ بُرے کام کرتے ہیں ان کو بھی قربانی کرنی پڑتی ہے۔اگر ایک شخص چوری کرتا ت ہے تو وہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے، اپنی رات کی نیند خراب کرتا ہے اور سردی گرمی کے اثرات کی پروا نہ کرتے ہوئے ایسے وقت میں گھر سے نکلتا ہے جبکہ لوگ میٹھی نیند سور ہے ہوتے ہیں۔