خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 92

خطبات محمود 92 سال 1947ء لیکن میرے پاؤں نہیں لگتے یہاں تک کہ میں اُس جگہ تک پہنچ گیا جہاں سندھ جا کر ڈیلٹا 2 بناتا ہے۔اُس کے قریب جا کر میرے پاؤں لگ گئے۔اس رویا میں میری زبان پر اللہ تعالیٰ نے جو یہ دُعا جاری کی تھی کہ یا اللہ ! سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں، اس کا مجھے ہمیشہ خیال رہتا تھا اور میں سمجھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے لئے سندھ کو اہم جگہ قرار دینا چاہتا ہے۔چنانچہ جب سندھ بیراج کی سکیم شروع ہوئی تو مجھے اپنی خواب یاد آ گئی اور میں نے جماعت میں تحریک کی کہ جماعت کو اس علاقہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیئے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے اُس وقت میری اس تحریک کی اہمیت کو نہ سمجھا اور جماعت جس قدر اُس وقت حصہ لے سکتی تھی اس نے نہ لیا۔میں نے دو دوستوں کو زمینوں کے متعلق تحقیقات کرنے کے لئے بھیجا۔وہ ایک ریونیو آفیسر سے ملے۔اُس نے ہمارے آدمیوں سے کہا کہ ہمیں یہاں آبادی کے لئے آدمی نہیں ملتے آپ پنجابیوں کو یہاں بسائیں ہم آپ کو اس کے عوض زمین کا حصہ دیں گے۔لیکن ہماری طرف سے یہ پیش کیا گیا کہ دو فیصدی کمیشن ہمیں دیا جائے۔چنانچہ یہ گفت و شنید کر کے ہمارے آدمی واپس آگئے اور دو تین ماہ مشورہ میں گزر گئے۔اس عرصے میں پنجابی آنے شروع ہو گئے۔جب دوبارہ ہمارے آدمی آئے تو اس ریونیو آفیسر نے کہا کہ اب آپ کو کمیشن وغیرہ تو نہیں دیا جا سکتا البتہ آپ جس جگہ پسند کریں زمین کا انتخاب کر لیں۔جس جگہ آپ انتخاب کریں گے وہیں ہم زمین کا انتظام کر دیں گے۔پھر مشورہ کرتے کرتے دیر ہوگئی۔آخر میں نے بعض دوستوں کو بھیجا۔انہوں نے زمین کا ایک ٹکڑا انتخاب کر کے درخواست دے دی اور ہم یہ سمجھے کہ کام ہو گیا لیکن سات آٹھ ماہ گزر گئے اور ہمیں گورنمنٹ کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔آخر ہمیں فکر پیدا ہوا۔ہم نے دوبارہ تحقیقات کرائی تو معلوم ہوا کہ ابھی معاملہ زیر غور ہے۔ایک لمبے عرصے کے بعد ایک افسر نے ہمیں یہ راز بتایا کہ گورنمنٹ وہ زمین جس کا آپ نے انتخاب کیا ہے انگریزوں کو دینا چاہتی ہے اور اُس نے انگریزوں کو مفت دینی ہے اور آپ قیمتا مانگ رہے ہیں تو گورنمنٹ اس اعتراض سے ڈرتی ہے کہ ہندوستانی اس زمین کو قیمتا خریدنے پر تیار تھے لیکن اُن کو نہیں دی گئی اور انگریزوں کو مفت دی گئی ہے۔اس لئے گورنمنٹ آپ سے ٹال مٹول کر رہی ہے تا کہ آپ تھک کر اس زمین کا ارادہ