خطبات محمود (جلد 28) — Page 93
سال 1947ء خطبات محمود 93 چھوڑ دیں اور وہ زمین انگریزوں کو دے دے۔اس کیس کے لئے میں نے ولایت میں اپنے مبلغ کولکھا کہ وہ سرا ڈوائر اور لائڈ جارج کو ملیں اور اُنہیں کہیں کہ یہ ہمارے ساتھ کیا بے انصافی کی جارہی ہے۔سراڈ وائر کے میرے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔سراڈ وائر نے کہا کہ میں کی مسٹر ڈا ؤ ( جو کہ سندھ میں ریونیو آفیسر تھے ) کو لکھوں گا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اور لائڈ جارج نے بھی کہا کہ میں بھی سفارش کروں گا۔مسٹر ڈ اؤر یو نیو آفیسر نے انہیں جواب دیا کہ اس زمین کے متعلق تو فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ وہ انگریزوں کو دی جائیگی۔اس پر ہمیں کہا گیا کہ آپ کوئی اور ٹکڑا تجویز کر لیں۔میں نے پھر آدمی بھجوائے اور یہ جگہ جو کہ اب احمد آباد اور محمود آباد وغیرہ کے نام سے موسوم ہے تلاش کی گئی۔یہ پنتالیس سو ایکڑ تھی۔اس میں سے بھی احمد آباد کی جو زمین تھی اس پر بھی انگریز قبضہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہمارے ساتھ گورنمنٹ کا وعدہ ہیں ہزا را یکڑ کا ہے۔ساڑھے سترہ ہزار ایکڑ ہم لے چکے ہیں۔اور اڑھائی ہزا را یکر باقی ہے یہ بھی ہم لے لیں گے۔اس ٹکڑے کو اگر ہم چھوڑ دیتے تو ہمارے پاس چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رہ جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس معاملہ میں ہماری مددفرمائی۔معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ میری خواب کو پورا کرنا چاہتا تھا۔مسٹر ڈاؤ کے ساتھ ایک ہندوستانی پارسی افسر تھے۔اُن کے دل میں ہندوستانیوں کے لئے ہمدردی تھی۔جب ہمارے آدمی اُن سے ملے تو اُنہوں نے کہا کہ مجھے تو غصہ آ رہا ہے یہ ہندوستانیوں کو محروم کیا جا رہا ہے اور تمام حقوق انگریزوں کو دیئے جا رہے ہیں۔لیکن میں کیا کروں؟ گورنمنٹ معاہدہ کر چکی ہے کوئی ذریعہ آپ بتا دیں تو پھر میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔جب اوپر کے افسر کی مدد کرنے کی خواہش ہو تو ماتحت بھی رستہ پیدا کر لیتے ہیں۔اُس کے ایک کارکن نے کہا اگر جناب چاہتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے تو میں رستہ آپ کو بتا سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بیشک گورنمنٹ نے ہمیں ہزا را یکڑ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن انگریزوں نے خود ساڑھے سترہ ہزا را یکڑ لے کر یہ تحریر کر دیا ہے کہ اڑھائی ہزار ایکڑ ہم چھوڑتے ہیں۔آپ یہ رقبہ ان کو دے دیں۔اور اگر انگریزوں کی تھی طرف سے مطالبہ ہو تو آپ انہیں کہہ دیں کہ آپ باقی رقبہ خود چھوڑ چکے ہیں۔چنانچہ ہم نے چودھری فتح محمد صاحب سیال کو بھیج دیا اور وہ روپیہ وغیرہ ادا کر کے زمین خرید کر واپس آگئے۔۔