خطبات محمود (جلد 28) — Page 91
خطبات محمود 91 سال 1947ء فریضہ کے سرانجام دینے میں کوتاہی سے کام لیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے مجرم ہوتے ہیں۔ان میں اور دوسرے لوگوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔عام لوگ اپنے لئے جیتے ہیں لیکن وہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں۔جو شخص دنیوی عزت کے لئے کام کرتا ہے وہ دنیا کی نظروں میں معزز ہو جاتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے کام کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔لیکن اِن دونوں کے مرتبہ میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے اور اس کی مثال تم یوں سمجھو کہ ایک جی جرنیل بھی بڑا آدمی ہے اور ایک تاجر بھی بڑا آدمی ہے اور سوسائٹی میں صرف جرنیلوں کی ہی عزت نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے تاجروں کی بھی عزت کی جاتی ہے۔لیکن جب تاریخ ان کا مقابلہ کرے گی تو اُس میں تاجر کو جھوتی کی حیثیت بھی نہیں دی جائے گی اور ایک جرنیل کی حیثیت تاج کی ہوگی۔جرنیل کو یہ مقام اس لئے دیا جائے گا کہ اُس نے اپنی قوم کے لئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا اور اپنے ملک کے لئے زندگی بسر کی۔لیکن وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے لئے زندگی گزارتا ہے وہ تو اتنی بڑی عزت کا مستحق ہے کہ دنیا کی کوئی عزت اُس کا مقابلہ نہیں ہے کر سکتی۔پس وقت کی نزاکت کو سمجھو۔اور زیادہ سے زیادہ قربانی کر کے اس پیج کو شہروں ، صوبوں ، اور ملکوں میں پھیلانے کی کوشش کرو۔اور اگر تمہاری نظر زیادہ وسعت نہیں رکھتی تو میں کم از کم اپنے شہر کی درستی کی تو کوشش کرو۔یوں تو ہر جگہ ہی ہمیں احمدیت کے پھیلانے کی ضرورت ہے لیکن سندھ کی طرف ہمیں خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔1915 ء کی بات ہے اُس وقت سندھ کو ابھی کوئی اہمیت نہ تھی اور سندھ بمبئی کی ایک کمشنری تھی کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک نہر کے کنارے پر ہوں اور اُس نہر کا نظارہ دیکھ رہ ہوں۔میں ابھی وہیں کھڑا ہوں کہ شور پڑ گیا کہ دریا کا بندٹوٹ گیا ہے اور تمام علاقے میں پانی پھیل گیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ارد گرد کے گاؤں پانی کی زد میں آگئے ہیں۔میں حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں مجھے آواز آئی کہ پانی ادھر بھی آ گیا ہے۔میں اُس جگہ سے ابھی ہٹا نہیں تھا کہ نہر کا بند ٹوٹ گیا اور میں پانی میں گھر گیا۔جب میں نے ہوش سنبھالا تو میں نے یہ خیال کیا کہ یہ دریا آخر دریائے سندھ میں مل جائے گا۔چنانچہ میں اُس وقت دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ ! سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں۔یا اللہ ! سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں۔میں تیرتا جاتا ہوں