خطبات محمود (جلد 27) — Page 67
*1946 67 خطبات محمود آبادی کا دسواں حصہ ہیں تو صرف تحصیل بٹالہ میں پچاس ہزار احمدی ثابت ہوتے ہیں مگر ہماری جماعت کے ووٹ دینے والوں کی نسبت اس سے زیادہ ہے۔اس لئے اس قدر اندازہ لگانا درست نہیں۔پس یہاں صرف ممبری کا ہی سوال نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی تعداد اور اس کی عظمت کو بھی ظاہر کر دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ووٹ اس تحصیل میں 6800 تھا مگر بہت سے ووٹ ضائع ہو گئے جس کی وجہ یہ تھی کہ تجربہ نہیں تھا۔اگر کوشش کی جاتی تو سات ہزار سے بھی زیادہ احمد کی ووٹ ہوتے۔در حقیقت ہماری تعداد اس تحصیل میں قادیان کو ملا کر میرے خیال میں بیس پچیس ہزار کے قریب ہے۔لیکن اگر سات ہزار ووٹ ہوتے تو گورنمنٹ کے حساب کی رو سے ہماری تعداد ستر ہزار ہوتی۔پھر گورداسپور میں بھی ہمارا دو ہزار کے قریب ووٹ موجود تھا جو ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو روز بروز ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔اور یہ ایک ایسا ثبوت ہے جو ہمارا پیش کیا ہوا نہیں بلکہ گورنمنٹ کی آراء شماری اس کا ثبوت پیش کرتی ہے۔میں نے پچھلے سے پچھلے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کے متعلق اعتراض کیا تھا کہ انہوں نے پوری قربانی سے کام نہیں لیا اور جیسے کمزور انسان کا قاعدہ ہوتا ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اپنے سے نچلے سے اس کا بدلہ لیتا ہے۔اسی طرح انہوں نے بھی بجائے اس کے کہ اس پر فخر کرتے اور خوش ہوتے کہ ہمیں تو جھاڑ پڑ گئی لیکن ہماری عور تیں تو کچھ کر کے آگئیں انہوں نے گھروں میں جا کر عورتوں کو طعنے دینے شروع کر دیئے کہ تمہاری وجہ سے ہمیں جھاڑ پڑی ہے۔گویا مطلب یہ تھا کہ تم بھی کام نہ کرتیں تو کیا ہی اچھا ہوتا ہماری ناک تو بچ جاتی۔حالانکہ یہ کتنی غلطی تھی۔اپنی ناک کو اونچا کر کے عزت حاصل کرنی چاہئے یا دوسرے کی ناک کٹوا کر عزت حاصل کرنی چاہئے۔مجھے عورتوں نے یہ بات بتائی کہ ہمارے مردیوں طعنہ دیتے ہیں تو میں نے انہیں کہا ہارے ہوئے طعنے ہی دیا کرتے ہیں تم پروا نہ کرو۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عورتوں نے واقع میں نہایت اعلیٰ کام کیا ہے۔بعد میں مجھے ایک اور مثال کا پتہ لگاجو حیرت انگیز تھی اور جس نے قادیان کی مثالوں کو بھی مات کر دیا۔ہمارے جو آدمی الیکشن کے کام کے لئے گئے ہوئے تھے اُن میں سے ایک نے