خطبات محمود (جلد 27) — Page 663
*1946 663 خطبات محمود بھی اس کے نیچے آکر پس جاؤں گا۔ایک مثل مشہور ہے کہ کوئی چھوٹا سا جانور رات کو اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف اونچی کر کے سویا کرتا ہے۔ایک دن کسی نے اُس سے پوچھا کہ تم اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف کر کے کیوں سوتے ہو ؟ تو اُس نے کہا میں اپنی ٹانگیں اس لئے آسمان کی طرف کر کے سوتا ہوں کہ اگر رات کو آسمان گر پڑے تو میں اس کو اپنی ٹانگوں پر سہار سکوں۔یہ ایک مثال ہے جو کسی چھوٹے سے جانور کی طرف منسوب کی گئی ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو در حقیقت یہ مثال کسی چھوٹے سے جانور کی نہیں بلکہ مومن کی ہے۔اور مومن کی مثال ایسی ہی ہونی چاہئے۔ہر مومن کو اپنے دل میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ میں نے ہی ساری دنیا کو بچانا ہے، میں نے ہی ساری دنیا کو کفر سے نجات دلانی ہے ، میں نے ہی ساری دنیا کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور میں نے ہی ساری دنیا میں اسلام کے جھنڈے کو گاڑنا ہے۔جب تم میں سے اگر سارے نہیں تو کچھ مومن بھی اس مقام کو حاصل کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری امداد کا ذمہ لے لے گا اور وہ تمہارے جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دے گا۔جس وقت حضرت لوط کی بستی پر عذاب آنے والا تھا تو فرشتوں نے اس عذاب کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے ہی اس کے متعلق خبر دے دی تھی۔جب حضرت ابراہیم کو اُس کے متعلق معلوم ہوا تو آپ اللہ تعالیٰ کے حضور اس عذاب کے ٹل جانے کے لئے دعائیں کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ اے اللہ ! اگر اس بستی میں 100 نیک آدمی ہوں گے تو کیا تو ان کو بچانے کی خاطر باقی ساری بستی کو بھی نہ بچالے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم ! اگر 100 آدمی ان میں سے نیک ہو گا تو میں ضرور اُن کی خاطر باقی تمام لوگوں کو چھوڑ دوں گا۔تب حضرت ابراہیم کو شبہ ہوا کہ اس ساری بستی میں 100 مومن بھی نہیں ہے۔پھر عرض کیا کہ اے اللہ ! اگر 100 سے بھی کم 90 ہی مومن ہوں تو 100 کیا اور 90 کیا۔کیا تو 90 مومنوں کی خاطر بھی اس بستی کو اپنا عذاب نہیں ٹلا دے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اے ابراہیم ! ہم نے تیری دعا کو سنا۔اگر 90 مومن بھی اس بستی میں ہوں گے تو ہم ان کی خاطر باقی لوگوں کو بھی چھوڑ دیں گے۔تب حضرت ابراہیم کو پھر شبہ ہوا کہ اس بستی میں 90 مومن بھی نہیں ہیں۔آپ نے پھر عرض کیا کہ 90 کیا اور 80 کیا۔کیا تو 80 مومنوں کے لئے باقی لوگوں کو