خطبات محمود (جلد 27) — Page 608
*1946 608 خطبات محمود اور پھر دشمن کے اتنا کہہ دینے پر کہ اس مسئلہ کو جانے دو اُس کو جانے دینا کیا اس سے بڑھ کر بھی اور کوئی نادانی کی بات ہو سکتی ہے؟ دشمن تو ہمیشہ تمہیں یہی کہتا رہے گا کہ اس مسئلے کو چھوڑو ہمیں اس سے کیا؟ مسیح زندہ ہو یا وفات یافتہ ہمیں تو قرآن کریم سے کام ہے۔مگر تم دشمن کے کہنے میں ہر گز نہ آؤ اور اسے کہو کل تو تم کفر کے فتوے لگاتے پھرتے تھے اور آج کہتے ہو ہمیں اس سے کیا مسیح زندہ ہو یا وفات پا گیا ہو۔یا تو ہماری پیش کر دہ صداقت کو قبول کرو اور یا میدان میں اترو، ہم تمہیں ہر گز نہیں جانے دیں گے جب تک کوئی فیصلہ کن نتیجہ نہ نکل آئے۔کیا کفر کے فتوے لگانا آسان ہے ؟ آجکل عَوامُ النَّاس کو مولویوں نے یہ پٹی پڑھائی ہے کہ وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ بحث ہماری شکست کا باعث ہو گی اور جن لوگوں میں بیٹھ کر ہم بڑی بڑی ڈینگیں مارتے ہیں ان کی موجودگی میں بحث کرنے کے یہ معنے ہوں گے کہ ہمارا سارا پول کھل جائے گا اور ہماری علمیت لوگوں پر ظاہر ہو جائے گی۔پس اس مسئلہ کو نہ چھوڑو اور اصرار سے اپنے مد مقابل کو اور ہر غیر احمدی رشتہ دار کو پکڑو اور کہو۔ہزار سال سے تمہارے علماء، صوفیاء اور بزرگ سب کے سب یہی کہتے آئے اور اسی غلط عقیدہ کو لوگوں میں پھیلاتے آئے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے مگر حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر اس غلط عقیدہ کو باطل کیا اور صداقت کو ثابت کیا اور قرآن کریم سے ثابت کیا۔کیا قرآن کریم کو صحیح طور پر سمجھنے والا نَعُوذُ بِاللہ دجال ہے ؟ کیا وہ علماء اور صوفیاء اچھے ہیں جنہوں نے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کے ایمانوں کو ضائع کیا یا ( نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذالك ) وہ دجال اچھا ہے جس نے حق اور باطل میں فرق کر کے دکھا دیا؟ یہ ایک سیدھی اور واضح حقیقت ہے جس کو مان لینے سے کوئی گریز نہیں کر سکتا۔اور اگر کوئی کرے تو تم اُسے پکڑو اور کہو کہ تم نے اور تمہارے علماء اور تمہارے دوسرے بزرگ کہلانے والوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اور ہم پر اسی مسئلہ کی وجہ سے کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں۔اس لئے ہم نہیں جانے دیں گے ہمارے ساتھ فیصلہ کر کے جاؤ۔اگر تم اسے غلط سمجھتے ہو تو کہہ دو کہ غلط ہے۔اگر صحیح سمجھتے ہو تو پھر بھاگتے کیوں ہو اور پیچھا چھڑانے کی کوشش کیوں کرتے ہو ؟ اگر یہ صحیح ہے تو اس کو قبول کرو اور اپنے آبائی غلط عقیدے کو ترک کرو اور خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی تمام