خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 609

*1946 609 خطبات محمود غلطیوں کا اقرار کر کے اس سے معافی مانگو۔اسی طرح تعلیم یافتہ طبقہ کو بھی اس صداقت کی طرف لایا جا سکتا ہے۔بعض اوقات وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ ایمانیات میں نہیں اس لئے چلو ہم مسیح کو وفات یافتہ مان لیتے ہیں۔مگر تم انہیں کہو چلو مان لیتے ہیں تو کوئی معنی ہی نہیں رکھتا اور اس مسئلے کا یہ جواب ہی نہیں ہو سکتا۔سیدھی طرح یا تو مانو اور یا انکار کر دو۔جب قرآن کریم سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے تو اس کے ماننے میں تمہیں کیا انکار ہو سکتا ہے۔اگر وہ اس کو مان جائے تو اسے کہو کہ ہزار سال گزشتہ کے علماء، صوفیاء اور تعلق باللہ کے دعویداروں سے یہ صداقت کیوں نہ ثابت ہو سکی اور یہ عقیدہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ و السلام پر ہی کیوں گھلا۔وہ اس قابل ہیں کہ ان کی تقلید کی جائے جن پر قرآن کریم گھلا یا وہ علماء اور صوفیاء اِس قابل ہیں کہ ان کی تقلید کی جائے جنہوں نے کروڑوں کروڑ انسانوں کو یہ غلط عقیدہ بتایا؟ اس کے بعد تعلیم یافتہ طبقہ میں صداقت پیش کرنے کا دوسر اگر یہ ہے کہ ان پر اس بارے میں زور دیا جائے کہ اگر تو اسلام سچا مذہب ہے تو کوئی ایسی تجویز ہونی چاہئے جس سے اسلام کی حفاظت کی جاسکے۔کیونکہ اسلام اس وقت چاروں طرف سے مصائب میں گھرا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہیں سمجھاؤ کہ جو مصائب آئے دن اسلام پر آرہے ہیں ان سب کے متعلق رسول کریم صلی الی یکم کی حدیثوں میں پیشگوئیاں موجود ہیں اور انہی حدیثوں میں مسیح موعود کی آمد کی خبر بھی دی گئی ہے۔اب تمہارا یہ کہہ دینا کہ مسیح نہیں آئے گا یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ہم کہتے ہیں جب رسول کریم صلی علیم کی انہی پیشگوئیوں میں سے جو اس زمانے کے متعلق تھیں سینکڑوں پوری ہوئیں اور ہو رہی ہیں تو ان کے ساتھ والی پیشگوئی جو کہ انہی پیشگوئیوں کا جزو ہیں یعنی جب فلاں فلاں باتیں پوری ہوں گی مسیح موعود آئے گا وہ کیوں پوری نہ ہوئی۔حدیثیں بیان کرنے والے راویوں نے کس طرح تیرہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس زمانہ کی عور تیں اس قسم کے لباس پہنیں گی جس سے ان کے جسم ننگے معلوم ہوں گے ، پردہ کا رواج جاتا رہے گا، لوگ شراب پینا کثرت سے شروع کر دیں گے۔جوئے بازی عام ہو گی، چوری چکاری کثرت سے ہو گی۔پھر انہوں نے یہ کیسے بتادیا تھا کہ عیسائی تمام دنیا پر غالب آجائیں گے حالانکہ اُس زمانہ میں یہ باتیں نہ تھیں۔اُس زمانہ میں تو عیسائی