خطبات محمود (جلد 27) — Page 569
*1946 569 خطبات محمود پھر خدا کار سول ان کے وطن میں آجائے گا اور وہ ان برکات کو حاصل کر سکیں گے جن سے وہ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک محروم رہے تھے۔مگر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو غلبہ عطا فرمایا تو مکہ والے جو امیدیں لگائے بیٹھے تھے ان میں سے انہیں صرف اتنا ہی حصہ ملا کہ وہ اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے گھروں کو لے گئے اور انصار خدا کے رسول کو دوبارہ مدینہ میں لے گئے۔8 انہوں نے پھر کہايَا رَسُولَ اللہ ! جو نا پسندیدہ بات آپ تک پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کی۔بعض بیوقوف نوجوانوں کے منہ سے یہ بات نکل گئی ہے۔ہم آپ کے ہر فعل کو جائز اور درست سمجھتے ہیں۔تو دیکھو رسول کریم صلی ا ہم نے مقابلہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ خدا کے رسول کے مقابلہ میں اونٹوں کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے کہ ان کا ذکر کیا جائے۔اسی طرح وَ أَمَا بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَدِت کا کیا صرف یہی مفہوم ہے کہ ہم اپنے کھانے اور پینے اور اپنے کپڑوں کی نمائش کریں؟ کیا کھانے اور پہننے کی چیزیں خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کے مقابلہ میں کوئی بھی حیثیت رکھتی ہیں؟ اگر رکھتی ہیں تو انصار کے نوجوانوں کا اعتراض صحیح تھا کہ اونٹ تو مکہ والے لے گئے ہیں ہمیں کیا ملا؟ لیکن اگر یہ چیزیں خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کے مقابلہ میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وَ أَمَا بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَدِّثُ میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب تمہیں دین ملے تو تم چچپ کر کے نہ بیٹھ رہو بلکہ بے اختیار ہر ایک کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ خدا نے مجھے یہ نعمت عطا فرمائی ہے تم بھی اس نعمت سے حصہ لو اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مور د بنو۔جب تک یہ جذبہ اور یہ ولولہ دل میں پیدا نہ ہو اس وقت تک ایمان کے درست ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا۔ایمان کی درستی کا سب سے بڑا ثبوت اور سب سے بڑا نشان یہی ہوا کرتا ہے کہ دل میں ایک آگ لگی ہوئی ہوتی ہے اور انسانی قلب میں یہ ولولہ موجزن ہوتا ہے کہ میں ایک ایک فرد تک خدا تعالیٰ کی آواز پہنچاؤں اور اسے بھی اس نعمت کا حصہ دار بناؤں۔محض عقیدہ رکھنے سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ انسان کے دل میں بھی سچی محبت ہے کیونکہ بعض دفعہ بڑے بڑے دعوی کرنے والے لوگ عین وقت پر پھسل جاتے ہیں اور اس وقت ثابت ہو تا ہے کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط تھا کہ انہیں سچی محبت اور سچا عشق ہے۔