خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 568

*1946 568 خطبات محمود م الله سة فرمایا اے انصار ! تم کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ (صلی للی ) اکیلا تھا، اس کی قوم نے اس سے دشمنی کی، اس کے رشتہ داروں نے اس کی مخالفت کی، اس کے اہل بلدہ اس کی جان لینے کے درپے ہو گئے۔جب اس کی قوم نے اسے دھتکار دیا، جب اس کے خاندان نے اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا، جب اس کے رشتہ داروں نے اس کی مدد کا بیڑہ اٹھانے سے انکار کر دیا اور ہر ایک نے لعن طعن اور گالی گلوچ اور مار پیٹ سے کام لینا شروع کر دیا تو ہم نے مدینہ کے دروازے کھول دیئے۔ہم اسے اپنے پاس لے گئے اور اس کی خدمت کے لئے اپنی جانیں اور اپنے اموال وقف کر دیئے مگر اس کی قوم نے اس کا پھر بھی پیچھانہ چھوڑا اور مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔تب ہم نے اس کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کیں اور آخر وہ وقت آیا جب خدا نے اسے فتح دی اور اس کے دین کو تقویت بخشی۔دشمن ہار گیا اور محمد رسول اللہ فاتح اور کامیاب ہوا۔مگر جب دشمن ہار گیا تو محمد رسول اللہ (صلی للی ) نے ہم کو تو خالی ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی قوم کو مالِ غنیمت دے دیا۔7 فرمایا تم ایسا کہہ سکتے ہو اور ایک نقطہ نگاہ یہ بھی ہے۔انصار جنہوں نے اپنی زندگیاں محمد رسول اللہ صلی ال نیم کی محبت میں لگادی تھیں یہ بات سن کر ان کی چھینیں نکل گئیں۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ مجلس میں کہرام مچ گیا۔وہ روتے تھے اور چھینیں مار مار کر روتے تھے اور کہتے تھے یا رَسُولَ اللہ ! ہم ایسا ہر گز نہیں کہتے ، ہم اس نقطہ نگاہ کو نہیں مانتے۔یہ ہم میں سے بعض بیوقوفوں نے بات کہی ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔اے انصار ! مگر ایک اور نقطہ نگاہ بھی ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا نے محمد رسول اللہ صلی ا کم کو مکہ میں پیدا کیا، مکہ والے اس بات کے مستحق تھے کہ خدا نے انہیں جس نعمت سے نوازا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور اس برکت سے حصہ پائیں جو خدا نے اسلام کے ساتھ مخصوص کی ہے لیکن ان لوگوں نے وقت پر نہ پہچانا اور اسلام کی مخالفت اپنے انتہاء کو پہنچا دی۔تب خدا اپنے رسول کو مدینہ میں لے گیا اور پھر خدا تعالیٰ نے ایسا فضل نازل فرمایا کہ دشمن زیر ہو گیا، اس کی طاقت ٹوٹ گئی، اس کی حشمت خاک میں مل گئی اور وہی مکہ جس سے اُسے نکالا گیا تھا اُس میں وہ فاتحانہ طور پر داخل ہوا۔جب اللہ تعالیٰ نے اس کے رعب اور اس کے جلال کو قائم کر دیا اور وہ اپنے دشم الله سة شمنوں پر غالب آگیا تو مکہ والوں نے سمجھا کہ شاید ان کی کھوئی ہوئی عظمت ان کو پھر مل جائے گی،