خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 531

*1946 531 خطبات محمود کے قریب ہے مگر ہماری جماعت کے افراد اس طرح پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کی آواز کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی۔لیگ ہمیں اپنے اندر شامل نہیں کرتی اور کانگرس میں ہم شامل نہیں ہونا چاہتے۔اس کے مقابلہ میں پارسی ہندوستان میں تین لاکھ کے قریب ہیں۔لیکن حکومت کی طرف سے ایک پارسی وزیر سنٹر میں مقرر کر دیا گیا ہے اور ان کی جماعت کو قانونی جماعت تسلیم کر لیا گیا ہے حالانکہ ہماری جماعت اُن سے دُگنی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔میں نے دہلی میں ایک انگریز افسر کو کہلا بھیجا کہ ہم شکوہ نہیں کرتے لیکن حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ نہایت غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے پارسیوں کا قانونی وجود تسلیم کیا مگر احمدیوں کا نہیں حالانکہ تم ایک ایک پارسی لاؤ میں اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا چلا جاؤں گا۔صرف اس لئے کہ ہماری جماعت بولتی نہیں اور ہماری جماعت دوسروں کی طرح لڑتی نہیں، ہمارے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا۔اس نے کہا ہم آپ کی جماعت کو ایک مذہبی جماعت سمجھتے ہیں۔میرے نمائندہ نے اس کو جواب دیا کہ بے شک ہم ایک مذہبی جماعت ہیں مگر کیا ہم نے ہندوستان میں رہنا ہے یا نہیں ؟ اور کیا ہندوستان کی سیاسیات کا اثر ہم پر نہیں پڑتا؟ (دوسرا جواب اِس کا یہ ہے کہ کیا پارسی مذہبی جماعت نہیں اور عیسائی مذہبی جماعت نہیں۔ان کے آدمی پارسی اور عیسائی کر کے لئے گئے ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کر کے؟) بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات تھی جو کوشش صلح کے لئے ہو سکتی تھی وہ میں نے کی اور اسی سلسلہ میں میں مسٹر گاندھی سے بھی ملا۔میر امنشاء تھا کہ میں ان سے تفصیل سے بات کروں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ آپس کا تفرقہ ٹھیک نہیں۔ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ کچھ وہ چھوڑ دیں اور کچھ لیگ چھوڑ دے تاکہ ملک کی بد امنی خطرناک رنگ اختیار نہ کر لے۔میں نے ان سے کہا کہ لڑتے آپ ہیں لیکن آپ لوگوں کی جان پر اس کا وبال نہیں بلکہ اُن ہزاروں ہزار لوگوں پر ہے جو قصبوں میں رہتے ہیں یا دیہات میں رہتے ہیں اور تہذیب اور شائستگی کو نہیں سمجھتے۔وہ ایک دوسرے کو ماریں گے، ایک دوسرے کو ٹوٹیں گے اور ایک دوسرے کے گھروں کو جلا دیں گے۔(جیسے جھگڑا لیگ اور کانگرس کا تھا لیکن مسجد اور لائبریری ڈھا کہ میں ہماری جماعت کی جلا دی گئی حالانکہ نہ ہم لڑے اور نہ ہم بدامنی پیدا کرنا جائز سمجھتے ہیں مگر وہاں کے ہندوؤں نے ہماری مسجد اور ہماری