خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 524

*1946 524 خطبات محمود کام کرنے والے آدمی ہوں تو وہ اپنے کام کے لئے خود ہی راستے نکال لیا کرتے ہیں۔قانون اور چیزوں میں روک بن جاتا ہے لیکن تبلیغ میں روک نہیں بن سکتا۔آخر مکہ والے بھی تو رسول کریم می لی لی لیلی اور آپ کے صحابہ" کو تبلیغ نہیں کرنے دیتے تھے مگر کیارسول کریم صلی ا ہم نے کبھی اس بات کی پروا کی؟ پس جب بھی ہمارے پاس کافی مبلغ ہوئے ایسے ممالک میں بھی ہمارے مبلغوں کو جانا پڑے گا۔اس وقت پانچ چھ ممالک ایسے ہیں جہاں قانونی طور پر مبلغین کو جانے نہیں دیا جاتا۔اس وقت ہم خاموش ہیں اور اس بارہ میں کوئی جدو جہد کرنا اپنی طاقت کا ضیاع سمجھتے ہیں کیونکہ ابھی کئی ممالک جن میں ہمارے مبلغ جا سکتے ہیں خالی پڑے ہیں اور وہ ہم سے مبلغین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ان ممالک کی موجودگی میں ان ممالک میں زبر دستی جا کر تبلیغ کرنا جو اپنے ملکوں میں آنے کی اجازت نہیں دیتے اپنی طاقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔ہم اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب آزاد ممالک ہمارے مبلغین سے بھر جائیں گے اور ہم مجبور ہوں گے کہ ان ممالک کی طرف توجہ کریں جن میں قانونی طور پر اسلامی مبلغین کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔اس وقت ہمارا فرض ہو گا کہ ہم زبر دستی ان ممالک میں جائیں اور پھر چاہے قید ہوں یا مارے جائیں ، برابر تبلیغ احمدیت کا جھنڈ ابلند کرتے چلے جائیں۔پس ہماری جماعت کو اپنی اس ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ واقفین پیدا کرنے چاہئیں اور واقفین اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتے جب تک زیادہ سے زیادہ تعلیم ہماری جماعت میں رائج نہ ہو۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت کی تعلیمی ترقی کے لئے اس سال کا لج میں جو بی۔اے، بی۔ایس۔سی کی جماعتیں کھولی گئی تھیں اُن میں اب تک صرف بائیں لڑکے داخل ہوئے ہیں یا حالانکہ کالجوں میں عام طور پر چالیس پینتالیس فیصدی طالب علم پاس ہوتے ہیں۔اگر اس سے بھی زیادہ اچھا نتیجہ نکلے تو بھی اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہمارے بی۔اے، بی۔ایس۔سی میں صرف دس گیارہ لڑ کے پاس ہوں گے اور دس گیارہ لڑکوں میں سے تبلیغ کے لئے انتخاب کس طرح کیا جا سکتا ہے۔انتخاب کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ لڑکوں کی تعداد زیادہ ہو کیونکہ کچھ ملازمت اختیار کر لیتے ہیں، کچھ تجارت کی طرف چلے جاتے ہیں، کچھ کام کے نا اہل ہوتے ہیں اس کے بعد تعداد بڑھ کر ستائیس تک پہنچ گئی ہے۔