خطبات محمود (جلد 27) — Page 525
*1946 525 خطبات محمود اور اس طرح قلیل تعداد ایسے لڑکوں کی نکلتی ہے جو تبلیغ کے لئے انتخاب میں آنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔پس اگر ہمیں دس گیارہ لڑکے ہی ملیں تو ان دس گیارہ میں سے ہم انتخاب کس طرح کر سکتے ہیں۔مبلغین کا انتخاب تم اس وقت تک کامیاب طور پر نہیں کر سکتے جب تک ہر سال ڈیڑھ دو سو طالب علم بی۔اے کے امتحان میں پاس نہ ہوں۔کیونکہ امتحان پاس کرنے کے بعد جیسا کہ میں نے بتایا ہے کچھ تجارتیں شروع کر دیتے ہیں، کچھ ملازمتیں اختیار کر لیتے ہیں، کچھ اور کاروبار کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور جو باقی رہ جائیں وہ ہمارے کام آسکتے ہیں۔اسی طرح جب تک ہر سال ہمیں سو ڈیڑھ سو مولوی فاضل نہ ملیں ہم اپنے کام کو صحیح طور پر سر انجام نہیں دے سکتے۔ہمیں اپنے گزشتہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ تبلیغ کے لئے فوری طور پر گریجوایٹ زیادہ مفید ہوتے ہیں کیونکہ گریجوایٹ ہونے کی وجہ سے وہ غیر زبان زیادہ آسانی سے سیکھ جاتے ہیں اور پھر بوجہ انگریزی زبان جاننے کے وہ ہر ملک میں کام کر سکتے ہیں کیونکہ انگریزی زبان جس سے انہیں واقفیت ہوتی ہے اس کے بولنے اور سمجھنے والے تمام ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔لیکن دوسری طرف یہ نقص ہے کہ گریجوایٹ دینی تعلیم جلد حاصل نہیں کر سکتے اس لئے ہمارا بہترین تجربہ یہ ہے کہ تبلیغ کے لئے ایک مولوی فاضل اور ایک گریجوایٹ دونوں کو اکٹھا بھیجا جائے۔مولوی فاضل انسائیکلو پیڈیا کا کام دیتا ہے اور جن مسائل سے واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے وہ بتاتا چلا جاتا ہے اور زبان دانی کے لحاظ سے گریجوایٹ زیادہ مفید کام کرنے والا ثابت ہوتا ہے۔آخر اکٹھے رہنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ گریجوایٹ مولوی فاضل کی طرح دینی مسائل سے واقف ہو جاتا ہے اور مولوی فاضل گریجوایٹ کی طرح غیر زبانیں سیکھ جاتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ جاری رہا تو چند سالوں میں ہی ہماری جماعت میں ایسے علماء پیدا ہو جائیں گے جو فرانسیسی زبان بھی جانتے ہوں گے ، جرمن زبان بھی جانتے ہوں گے، اٹالین زبان بھی جانتے ہوں گے ، سپینش زبان بھی جانتے ہوں گے اور اسی طرح دوسری زبانیں جانتے ہوں گے۔وہ دوسرے مسلمانوں کے علماء کی طرح نہیں ہوں گے بلکہ مختلف زبانوں میں مہارت رکھنے والے ہوں گے۔اور اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو لوگ مولوی ہوں انہیں کوئی دوسری زبان آتی ہی نہیں بلکہ آہی نہیں سکتی۔مگر یہ ایسے لوگ