خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 500

*1946 500 خطبات محمود تمام دنیا کے لئے نذیر بن جاؤ گے۔اُس وقت یہ سوال نہیں رہے گا کہ تم فلاسفر ہو یا ان پڑھ ہو، لائق ہو یا نالائق ہو۔تم تمام دنیا پر غالب آجاؤ گے اور دنیا تمہارے مقابلہ سے عاجز آجائے گی۔میری مثال دیکھ لو میں پرائمری میں بھی فیل ہوا اور مڈل میں بھی فیل ہوا لیکن چونکہ گھر کا مدرسہ تھا اس لئے اگلی جماعت میں بٹھا دیا گیا لیکن انٹرنس (Entrance) میں جا کر سوائے تاریخ اور جغرافیہ کے سب مضمونوں میں فیل ہو گیا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے مجھے دین کی خدمت کے لئے چنا تو اپنے پاس سے مجھے تمام علوم سکھائے۔میں کوئی دنیوی علم بھی نہیں جانتا یا کم سے کم میں نے دنیوی علوم دنیوی اُستادوں سے پڑھے نہیں لیکن یورپ امریکہ اور دوسرے ممالک کے بڑے بڑے فلاسفر اور کالجوں کے پروفیسر مجھے ملنے کے لئے آتے ہیں اور مختلف سوالات کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب پر مجھے غلبہ عطا کرتا ہے اور ہر شخص یہ کہہ کر جاتا ہے کہ ابھی میں نے پوری طرح سوچا نہیں تھا۔پھر ان باتوں پر غور کروں گا۔میں نے کوئی فلسفے کی کتاب نہیں پڑھی ، میں نے کوئی علم النفس کی کتاب نہیں پڑھی لیکن ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ مجھے دوسروں پر غلبہ عطا کرتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنا دماغ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم اور رسول کریم صلی ال نیم کے سپر د کر دیا ہے۔میں کسی بات کے متعلق ضد نہیں کرتا۔ہمیشہ میرا مقصود یہی ہوتا ہے کہ سچائی کیا ہے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ میری مدد کرتا ہے۔پس اگر تم بھی اپنے دماغ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کے سپر د کر دو گے اور اس ارادے اور اِس نیت سے قربانی کرو گے تو ہر مضمون کی سمجھ تمہیں عطا کی جائے گی۔پھر سقراط ، بقراط اور افلاطون جو بھی تمہارے مقابلہ میں آئے گا وہ شکست کھائے گا اور تم ہی جیتو گے۔چونکہ میں نے اپنا دماغ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ میرا اُستاد بن گیا ہے اور میرا علم قرآن کریم پر مبنی ہے۔اس لئے آج میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اگر تم میں بھی یہی روح کام کرنے لگ جائے تو پھر تمہیں کوئی چیز ڈرا نہیں سکے گی بلکہ بڑے بڑے فلاسفر تم سے ڈریں گے۔مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا کہ پچھلے دنوں جب لاہور میں میں شیخ بشیر احمد کے ہاں ٹھہر اہوا تھا تو ایک طالب علم لڑکی جو کہ ایم اے فلاسفی میں پڑھتی تھی بعض سوالات پوچھنے کے لئے آئی۔اُس کے ساتھ ایک اور غیر مسلم عورت بھی تھی۔گفتگو شروع ہوئی اُس نے فلسفیانہ رنگ میں